حقیقةُ الوحی — Page 162
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۶۲ حقيقة الوحى ۱۵۸﴾ نہیں کہ تا وہ مسلمان ہو جائیں بلکہ محض اس غرض سے کہ خدا کے رسول کا مقابلہ کیا۔ اس لئے وہ خدا کے نزدیک مستوجب سزا ہو گئے اور پانی کی طرح اُن کا خون زمین پر بہایا گیا۔ پس ظاہر ہے کہ اگر توحید کافی ہوتی تو یہودیوں کا کوئی جرم نہ تھا وہ بھی تو موحد تھے وہ محض انکار اور مقابلہ رسول کی وجہ سے کیوں خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل سزا ٹھیرے۔ سوال (۳) جناب عالی ۔ عبد الحکیم کو جو آپ نے خط تحریر فرمایا ہے اُس میں لکھا ہے کہ فطرتی ایمان ایک لعنتی چیز ہے اس کا مطلب بھی سمجھنے میں نہیں آیا۔ الجواب: خلاصہ اور مدعا میری تحریر کا یہ ہے کہ جو ایمان خدا تعالیٰ کے رسول کے ذریعہ سے حاصل نہیں ہوتا اور محض انسانی فطرت خدا تعالیٰ کے وجود کی ضرورت محسوس کرتی ہے جیسا کہ فلسفیوں کا ایمان ہے اس کا آخری نتیجہ اکثر لعنت ہی ہوتا ہے کیونکہ ایسا ایمان تاریکی سے خالی نہیں ہوتا اس لئے وہ لوگ جلدی اپنے ایمان سے پھسل کر دہر یہ بن جاتے ہیں پہلے تو صحیفہ فطرت اور قانون قدرت پر زور دیتے ہیں مگر چونکہ شمع رسالت کی روشنی ساتھ نہیں ہوتی جلد تاریکی میں پڑ کر گمراہ ہو جاتے ہیں۔ مبارک اور بے خطر وہ ایمان ہے جو خدا کے رسول کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے کیونکہ وہ ایمان صرف اس حد تک نہیں ہوتا کہ خدا کے وجود کی ایک ضرورت ہے بلکہ صدہا آسمانی نشان اُس کو اس حد تک پہنچا دیتے ہیں کہ در حقیقت وہ خدا موجود ہے ۔ پس اصل بات یہ ہے کہ خدا پر ایمان مستحکم کرنے کے لئے انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانا مثل میخوں کے ہے اور خدا پر اُسی وقت تک ایمان قائم رہ سکتا ہے جب تک کہ رسول پر ایمان ہو اور جب رسول پر ایمان نہ رہے تو خدا پر ایمان لانے میں بھی کوئی آفت آجاتی ہے اور خشک تو حید انسان کو جلد گمراہی میں ڈالتی ہے اسی واسطے میں نے کہا کہ فطرتی ایمان لعنتی ہے یعنی جس کی بنیا د صرف صحیفہ فطرت ہے اور جس کی بنا مجر دفطرت پر ہے اور رسول کی روشنی سے حاصل نہیں آخر وہ لعنتی خیال تک پہنچا دیتا ہے۔ غرض خدا کے رسول کو چھوڑ کر اور رسول کے معجزات کو چھوڑ کر محض فطرت کے لحاظ سے جس کا ایمان ہے