حقیقةُ الوحی — Page 152
۱۳۸ روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۵۲ حقيقة الوحى اب ہم اُن چند وساوس کا جواب دیتے ہیں جن کا جواب بعض حق کے طالبوں نے مجھ سے دریافت کیا ہے اور اکثر ان میں وہ وساوس ہیں کہ جو عبد الحکیم خان اسٹینٹ سرجن پٹیالہ نے تحریراً یا تقریراً لوگوں کے دلوں میں ڈالے اور اپنے مرتد ہونے پر ایسی مہر لگادی کہ اب غالبا اس کا خاتمہ اسی پر ہوگا۔ میں نے ان چند وساوس کا جواب منشی برہان الحق صاحب شاہجہانپور کے اصرار سے لکھا ہے جو اُنہوں نے نہایت انکسار سے اپنے خط میں ظاہر کیا ہے۔ چنانچہ میں ذیل میں منشی برہان الحق کے خط کی اصل عبارت ہر ایک سوال میں لکھ کر اُس کا جواب دیتا ہوں۔ وبالله التوفيق۔ سوال (1) تریاق القلوب کے صفحہ ۱۵۷ میں ( جو میری کتاب ہے ) لکھا ہے۔ اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گذرے کہ میں نے اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے کیونکہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے جو غیر نبی کو نبی پر بھی ہو سکتی ہے۔ پھر ریو یو جلد اوّل نمبر ۶ صفحہ ۲۵۷ میں مذکور ہے خدا نے اس اُمت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اُس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ پھر ریویو صفحہ ۴۷۵ میں لکھا ہے ۔ مجھے قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔ خلاصہ اعتراض یہ کہ ان دونوں عبارتوں میں تناقض ہے۔ ☆ الجواب یادر ہے کہ اس بات کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھے ان باتوں سے نہ کوئی خوشی ہے نہ کچھ غرض کہ میں مسیح موعود کہلاؤں یا مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں بہتر ٹھیراؤں ۔ خدا نے میرے ضمیر کی اپنی اس پاک وحی میں آپ ہی خبر دی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے قُلْ أُجَرِّدُ نفسی من ضروب الخطاب ۔ یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا تو یہ حال ہے کہ میں کسی خطاب کو اپنے لئے نہیں چاہتا یعنی میرا مقصد اور میری مراد ان خیالات سے برتر ہے اور کوئی خطاب دینا یہ خدا کا فعل ہے میرا اس میں دخل نہیں ہے۔ رہی یہ بات کہ ایسا کیوں لکھا گیا اور کلام میں یہ تناقض کیوں پیدا ہو گیا ۔ سو اس بات کو توجہ کر کے سمجھ لو کہ یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براهين احمدیه سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ۴۷۸ “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)