حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 145

روحانی خزائن جلد ۲۲ الله حقيقة الوحى جو لوگ یہود و نصاری اور ستارہ پرست ہیں جو شخص اُن میں سے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے گا اور اعمال صالحہ بجالائے گا خدا اُس کو ضائع نہیں کرے گا اور ایسے لوگوں کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان کو کچھ خوف نہیں ہوگا اور نہ غم یہ آیت ہے جس سے باعث نادانی اور کج فہمی یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی کچھ ضرورت نہیں ۔ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ یہ لوگ اپنے نفس امارہ کے پیرو ہو کر محکمات اور بینات قرآنی کی مخالفت کرتے ہیں اور اسلام سے خارج ہونے کے لئے متشابہات کی پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ اُن کو یاد رہے کہ اس آیت سے وہ کچھ فائدہ نہیں اُٹھا سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور آخرت پر ایمان لانا اس بات کو مستلزم پڑا ہوا ہے کہ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا جائے ۔ وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اللہ کے نام کی قرآن شریف میں یہ تعریف کی ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جو رب العالمین اور رحمن اور رحیم ہے جس نے زمین اور آسمان کو چھ دن میں بنایا اور آدم کو پیدا کیا اور رسول بھیجے اور کتا بیں بھیجیں اور سب کے آخر حضرت محمدم مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا جو خاتم الانبیاء اور خیر الرسل ہے اور یوم آخر قرآن شریف کی رو سے یہ ہے جس میں مردے جی اُٹھیں گے اور پھر ایک فریق بہشت میں داخل کیا جائے گا جو جسمانی اور روحانی نعمت کی جگہ ہے اور ایک فریق دوزخ میں داخل کیا جاوے گا جو روحانی اور جسمانی عذاب کی جگہ ہے اور خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ اس یوم آخر پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جو اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں۔ پس جبکہ اللہ تعالیٰ نے خود لفظ اللہ اور یوم آخر کے بتصریح ایسے معنی کر دیئے جو اسلام سے مخصوص ہیں تو جو شخص اللہ پر ایمان لائے گا اور یوم آخر پر ایمان لائے گا۔ اُس کے لئے یہ لازمی امر ہوگا کہ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاوے اور کسی کا اگر اس آیت سے یہ نکلتا ہے کہ صرف توحید کافی ہے تو پھر مفصلہ ذیل آیت سے یہ ثابت ہوگا کہ شرک وغیرہ سب گناہ بغیر تو بہ کے بخشے جائیں گے اور وہ آیت یہ ہے۔ قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ! حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ۔ منہ الزمر : ۵۴