حقیقةُ الوحی — Page 141
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۴۱ حقيقة الوحى ایمان لانے والے کو اس مقام سے ترقی بخشے گا تو وہ یہاں تک اپنی تمام چیزوں کو خدا کی چیزیں سمجھ لے گا کہ محسوس کرانے کی مرض بھی اُس کے دل میں سے جاتی رہے گی اور نوع انسان کے لئے ایک مادری ہمدردی اُس کے دل میں پیدا ہو جائے گی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ اور کوئی چیز اس کی اپنی نہیں رہے گی بلکہ سب خدا کی ہو جائے گی اور یہ تب ہوگا کہ جب وہ سچے دل سے قرآن شریف اور نبی کریم پر ایمان لائے گا۔ بغیر اس کے نہیں۔ پس کس قدر گمراہ وہ لوگ ہیں جو بغیر متابعت قرآن شریف اور رسول کریم کے صرف خشک تو حید کو موجب نجات ٹھیراتے ہیں بلکہ ۱۳۸ مشاہدہ ثابت کر رہا ہے کہ ایسے لوگ نہ خدا پر سچا ایمان رکھتے ہیں نہ دنیا کے لالچوں اور خواہشوں سے پاک ہو سکتے ہیں چہ جائیکہ وہ کسی کمال تک ترقی کریں اور یہ بات بھی بالکل غلط اور کورانہ خیال ہے کہ انسان خود بخود نعمت توحید حاصل کر سکتا ہے بلکہ توحید خدا کی کلام کے ذریعہ سے ملتی ہے اور اپنی طرف سے جو کچھ سمجھتا ہے وہ شرک سے خالی نہیں ۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان لانے کے بارے میں انسانی کوشش صرف اس حد تک ہے کہ انسان تقویٰ اختیار کر کے اُس کی کتاب پر ایمان لاوے اور صبر سے اُس کی پیروی کرے اس سے زیادہ انسان میں طاقت نہیں لیکن خدا تعالیٰ نے آیت هُدًى لِلْمُتَّقِينَ میں یہ وعدہ فرمایا ہے کہ اگر اس کی کتاب اور رسول پر کوئی ایمان لائے گا تو وہ مزید ہدایت کا مستحق ہوگا اور خدا اُس کی آنکھ کھولے گا اور اپنے مکالمات و مخاطبات سے مشرف کرے گا کیا اور بڑے بڑے نشان اُس کو دکھائے گا۔ یہاں تک کہ وہ اِسی دنیا میں اُس کو دیکھ لے گا کہ اُس کا خدا موجود ہے اور پوری تسلی پائے گا۔ خدا کا کلام کہتا ہے کہ اگر تو میرے پر کامل ایمان لاوے تو میں تیرے پر بھی نازل ہوں گا ۔ اسی بنا پر حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس اخلاص اور محبت اور شوق سے خدا کے کلام کو پڑھا کہ وہ الہامی رنگ میں میری زبان پر بھی جاری ہو گیا لیکن افسوس کہ لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ مکالمات الہیہ کیا شے ہیں در حقیقت کمال متابعت یہی ہے کہ وہی رنگ پکڑلے اور وہی انوار دل پر وارد ہو جائیں ۔ دَخَلْتُ النَّارِ حَتَّى صِرْتُ نَارًا - منه ☆