حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 132

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۳۲ حقيقة الوحى ۱۲۹﴾ تمہاری بہتری اسی میں ہے اور اگر تم کفر اختیار کرو تو خدا کو تمہاری کیا پر وا ہے زمین و آسمان سب اُسی کا ہے اور سب اُس کی اطاعت کر رہے ہیں اور خدا علیم اور حکیم ہے۔ (11) قوله تعالى ۔ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ قَالُوا بَلَى قَدْ جَاءَ نَانَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللهُ مِنْ شَيْءٍ لَى الجزء نمبر ٢٩ سورة الملك ترجمہ: اور جب دوزخ میں کوئی فوج کافروں کی پڑے گی تو جو فرشتے دوزخ پر مقرر ہیں وہ دوزخیوں کو کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی نذیر نہیں آیا تھا وہ کہیں گے کہ ہاں آیا تو تھا مگر ہم نے اُس کی تکذیب کی اور ہم نے کہا کہ خدا نے کچھ نہیں اُتارا۔ اب دیکھو ان آیات سے صاف ثابت ہوتا ہے که دوزخی دوزخ میں اس لئے پڑیں گے کہ وہ وقت کے نبیوں کو قبول نہیں کریں گے۔ (۱۲) قوله تعالى إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا الجزء نمبر ۲۶ سوره حجرات ترجمہ: سوا اس کے نہیں کہ مومن وہ لوگ ہیں جو خدا اور رسول پر ایمان لائے پھر بعد اس کے ایمان پر قائم رہے اور شکوک و شبہات میں نہیں پڑے دیکھو ان آیات میں خدا تعالیٰ نے حصر کر دیا ہے کہ خدا کے نزدیک مومن وہی لوگ ہیں کہ جو صرف خدا پر ایمان نہیں لاتے بلکہ خدا اور رسول دونو پر ایمان لاتے ہیں پھر بغیر ایمان بالرسول کے نجات کیونکر ہو سکتی ہے اور بغیر رسول پر ایمان لانے کے صرف تو حید کس کام آسکتی ہے۔ (۱۳) قوله تعالى وَمَا مَنَعَهُمْ أَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقْتُهُمْ إِلَّا أَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللهِ وَ بِرَسُولِهِ " (الجز نمره اسوره تو به ) ترجمہ: یعنی اس بات کا سبب جو کفار کے صدقات قبول نہیں کئے جاتے صرف یہ ہے کہ وہ خدا اور اُس کے رسول سے منکر ہیں ۔ اب دیکھو ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ جولوگ رسول پر ایمان نہیں لاتے اُن کے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔ خدا ان کو قبول نہیں کرتا۔ اور پھر جب اعمال ضائع ہوئے تو نجات کیوں کر ہوگی کی یہ تمام آیات ان لوگوں کے متعلق ہیں جنہوں نے رسول کے وجود پر اطلاع پائی اور رسول کی دعوت ان کو پہنچ گئی اور جولوگ رسول کے وجود سے بالکل بے خبر رہے اور نہ ان کو دعوت پہنچی اُن کی نسبت ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ اُن کے حالات کا علم خدا کو ہے۔ اُن سے وہ وہ معاملہ کرے گا جو اُس کے رحم اور انصاف کا مقتضاء ہے۔ منہ ا الملک : ۱۰۹ الحجرات : ١٦ التوبة : ۵۴