حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 124 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 124

روحانی خزائن جلد ۲۲ المولد حقيقة الوحى ۱۲۱) کہ جو شخص مسلمان کو کافر کہے تو کفر الٹ کر اُسی پر پڑتا ہے تو اس صورت میں کیا ہمارا حق نہ کہ بموجب اُنہیں کے اقرار کے ہم اُن کو کافر کہتے ۔ تھا غرض ان لوگوں نے چند روز تک اس جھوٹی خوشی سے اپنا دل خوش کر لیا کہ یہ لوگ کافر ہیں اور پھر جب وہ خوشی باسی ہو گئی اور خدا نے ہماری جماعت کو تمام ملک میں پھیلا دیا تو پھر کسی اور منصوبہ کی تلاش میں لگے ۔ تب انہی دنوں میں میری پیشگوئی کے مطابق پنڈت لیکھر ام آریہ سماجی کو میعاد کے اندر کسی نے ہلاک کر دیا مگر افسوس کہ کسی مولوی کو یہ خیال نہ آیا کہ پیشگوئی پوری ہوئی اور اسلامی نشان ظاہر ہوا بلکہ بعض نے ان میں سے بار بار گورنمنٹ کو توجہ دلائی کہ کیوں گورنمنٹ پیشگوئی کرنے والے کو نہیں پکڑتی مگر اس آرزو میں بھی خائب اور خاسر رہے اور پھر کچھ دنوں کے بعد ڈاکٹر پادری مارٹن کلارک نے ایک خون کا مقدمہ میرے پر دائر کیا پھر کیا کہنا تھا اس قدر خوشی ان لوگوں کو ہوئی کہ گویا پھولے اپنے جامہ میں نہ سماتے تھے۔ اور بعض مسجدوں میں سجدے کر کے میرے لئے اس مقدمہ میں پھانسی وغیرہ کی سزا ما نگتے تھے اور اس آرزو میں اُنہوں نے اس قدر سجدے رورو کے کئے تھے کہ اُن کی ناکیں بھی گھس گئیں مگر آخر خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق جو پہلے شائع کیا گیا تھا بڑی عزت سے میں بری کیا گیا اور اجازت دی گئی کہ اگر چا ہو تو ان عیسائیوں پر نالش کرو۔ مختصر یہ کہ اس آرزو میں بھی ہمارے مخالف مولوی اور اُن کے زیر اثر نامراد ہی رہے۔ پھر کچھ دنوں کے بعد کرم دین نام ایک مولوی نے فوجداری مقدمہ گورداسپور میں میرے نام دائر کیا اور میرے مخالف مولویوں نے اُس کی تائید میں آتما رام اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کی عدالت میں جا کر گواہیاں دیں اور ناخنوں تک زور لگایا اور اُن کو بڑی امید ہوئی کہ اب کی دفعہ ضرور کامیاب ہوں گے اور اُن کو جھوٹی خوشی پہنچانے کے لئے ایسا اتفاق ہوا کہ آتما رام نے اس مقدمہ میں اپنی نافہمی کی وجہ سے پوری غور نہ کی اور مجھ کو سزائے قید دینے کے لئے مستعد ہو گیا ۔ اُس وقت خدا نے میرے پر ظاہر کیا کہ وہ آتما رام کو اس کی اولاد کے ماتم میں مبتلا کرے گا چنانچہ یہ کشف میں نے اپنی جماعت کو