حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 122

۱۱۹ روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۲۲ حقيقة الوحى اُس فنا کی حالت میں کہا جاتا ہے کہ اس کو توحید حاصل ہوگئی ہے۔ پس جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں ۔ وہ کامل توحید جو سر چشمہ نجات ہے بجز نبی کامل کی پیروی کے حاصل ہو ہی نہیں سکا سکتی۔ اب اس تقریر سے ظاہر ہے کہ خدا کے رسول کو ماننا توحید کے ماننے کے لئے علت موجبہ کی طرح ہے اور ان کے باہمی ایسے تعلقات ہیں کہ ایک دوسرے سے جدا ہو ہی نہیں سکتے اور جو شخص بغیر پیروی رسول کے توحید کا دعویٰ کرتا ہے اسکے پاس صرف ایک خشک ہڈی ہے جس میں مغز نہیں اور اس کے ہاتھ میں محض ایک مردہ چراغ ہے جس میں روشنی نہیں ہے اور ایسا شخص کہ جو یہ خیال کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص خدا کو واحد لاشریک جانتا ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانتا ہو وہ نجات پائے گا یقیناً سمجھو کہ اُس کا دل مجزوم ہے اور وہ اندھا ہے اور اُس کو تو حید کی کچھ بھی خبر نہیں کہ کیا چیز ہے اور ایسی توحید کے اقرار میں شیطان اُس سے بہتر ہے کیونکہ اگر چہ شیطان عاصی اور نافرمان ہے لیکن وہ اس بات پر تو یقین رکھتا ہے کہ خدا موجود ہے مگر اس شخص کو تو خدا پر یقین بھی نہیں۔ اب خلاصہ کلام یہ کہ جو لوگ ایسا عقیدہ رکھتے ہیں کہ بغیر اس کے کہ کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے صرف توحید کے اقرار سے اس کی نجات ہو جائے گی۔ ایسے لوگ پوشیدہ مرتد ہیں اور در حقیقت وہ اسلام کے دشمن ہیں اور اپنے لئے ارتداد کی ایک راہ نکالتے ہیں ان کی حمایت کرنا کسی دیندار کا کام نہیں ہے۔ افسوس کہ ہمارے مخالف با وجود مولوی اور اہل علم کہلانے کے ان لوگوں کی ایسی حرکات سے خوش ہوتے ہیں۔ دراصل یہ بیچارے ہمیشہ اسی تلاش میں رہتے ہیں کہ کوئی سبب ایسا پیدا ہو جاوے کہ جس سے میری ذلت اور اہانت ہو مگر اپنی بدقسمتی سے آخر نا مراد ہی رہتے ہیں۔ پہلے ان لوگوں نے میرے پر کفر کا فتوی تیار کیا اور قریباً دو سو مولوی نے اس پر حاش اگر کوئی کہے کہ جس حالت میں شیطان کو خدا تعالیٰ کی ہستی اور وحدانیت پر یقین ہے تو پھر وہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی کیوں کرتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی نافرمانی انسان کی نافرمانی کی طرح نہیں ہے بلکہ وہ اسی عادت پر انسان کی آزمائش کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور یہ ایک راز ہے جس کی تفصیل انسہ ہے جس کی تفصیل انسان کو نہیں دی گئی اور انسان کی خاصیت اکثر اور اغلب طور پر یہی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی نسبت علم کامل حاصل کرنے سے ہدایت پالیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا ۔ ہاں جو لوگ شیطانی فاطر: ۲۹ سرشت رکھتے ہیں وہ اس قاعدہ سے باہر ہیں ۔ منہ