حقیقةُ الوحی — Page 116
روحانی خزائن جلد ۲۲ ١١۶ حقيقة الوحى بھیجتا ہے اور اپنی وحی اس پر نازل کرتا ہے اور اپنی ربوبیت کی طاقتیں اس کے ذریعہ سے دکھلاتا ہے۔ تب دنیا کو پتہ لگتا ہے کہ خدا موجود ہے۔ پس جن لوگوں کا وجود ضروری طور پر خدا کے قدیم قانون از لی کے رو سے خدا شناسی کے لئے ذریعہ مقرر ہو چکا ہے اُن پر ایمان لانا توحید کی ایک جزو ہے اور بجز اس ایمان کے توحید کامل نہیں ہو سکتی کیونکہ ممکن نہیں کہ بغیر اُن آسمانی نشانوں اور قدرت نما عجائبات کے جو نبی دکھلاتے ہیں اور معرفت تک پہنچاتے ہیں وہ خالص توحید جو چشمہ یقین کامل سے پیدا ہوتی ہے میسر آ سکے ۔ وہی ایک قوم ہے جو خدا نما ہے جن کے ذریعہ سے وہ خدا جس کا وجود دقیق در دقیق اور مخفی در مخفی اور غیب الغیب ہے ظاہر ہوتا ہے اور ہمیشہ سے وہ کنز مخفی جس کا نام خدا ہے نبیوں کے ذریعہ سے ہی شناخت کیا گیا ہے۔ ورنہ وہ توحید جو خدا کے نزدیک توحید کہلاتی ہے جس پر عملی رنگ کامل طور پر چڑھا ہوا ہوتا ہے اُس کا حاصل ہونا بغیر ذریعہ نبی کے جیسا کہ خلاف عقل ۔ ا ہے ویسا ہی خلاف تجارب سالکین ہے۔ بعض نادانوں کو جو یہ وہم گذرتا ہے کہ گویا نجات کے لئے صرف توحید کافی ہے نبی پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں ۔ گویا وہ روح کو جسم سے علیحدہ کرنا چاہتے ہیں یہ وہم سراسر دلی کوری پر مبنی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ جبکہ توحید حقیقی کا وجود ہی نبی کے ذریعہ سے ہوتا ہے اور بغیر اس کے ممتنع اور محال ہے تو وہ بغیر نبی پر ایمان لانے کے میسر کیونکر آسکتی ہے اور اگر نبی کو جو جڑھ توحید کی ہے ایمان لانے میں علیحدہ کر دیا جائے تو توحید کیونکر قائم رہے گی ۔ توحید کا موجب اور توحید کا پیدا کرنے والا اور توحید کا باپ اور توحید کا سر چشمہ اور توحید کا مظہر اتم صرف نبی ہی ہوتا ہے اُسی کے ذریعہ سے خدا کا مخفی چہرہ نظر آتا ہے اور پتہ لگتا ہے کہ خدا ہے۔ بات یہ ہے کہ ایک طرف تو حضرت احدیت جلّ شانہ کی ذات نہایت درجہ استغنا اور بے نیازی میں پڑی ہے اُس کو کسی کی ہدایت اور ضلالت کی پروا نہیں۔ اور دوسری طرف وہ بالطبع یہ بھی تقاضا فرماتا ہے کہ وہ ۱۴ شناخت کیا جائے اور اس کی رحمت ازلی سے لوگ فائدہ اُٹھاویں۔ پس وہ ایسے دل پر جو اہل زمین کے تمام دلوں میں سے محبت اور قرب اوسبحانہ کا حاصل کرنے کیلئے کمال درجہ پر فطرتی طاقت