گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 688
۱۹۸ روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۸۴ عصمت انبياء عليهم السلام پُر رعب اور لذیذ الفاظ کے ساتھ ایک فولادی میخ کی طرح دل کے اندر گھس جاتی ہے اور اس پر خدا کے نشانوں اور فوق العادت علامات کی ایک چمکتی ہوئی مہر ہوتی ہے اور انسان کو خدا پر پورا یقین حاصل کرنے کے لئے یہ ایک پہلی ضرورت ہے کہ ایسی وحی سے بذات خود فیضیاب ہو یا ایک فیضیاب سے تعلق شدید رکھتا ہو جو روحانی تاثیر سے دلوں کو اپنی طرف کھینچنے والا ہو پس ہر یک مذہب جو یہ تازہ بتازہ وحی جو زندہ نشان اپنے ساتھ رکھتی ہے پیش نہیں کر سکتا وہ ان بوسیدہ ہڈیوں کی مانند ہے جو خاک نے قریباً ان کو خاک کی مانند کر دیا ہے اور ایسے مذہب سے ہرگز ممکن نہیں کہ کوئی سچی تبدیلی پیدا کر سکے اور اس پر فخر اور ناز کرنے والے صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو محض باپ دادوں کی لکیر پر چلنا چاہتے ہیں اور حق جوئی کی ان کی روح میں کوئی خواہش نہیں اور نہ ایسی خواہش کے وہ آرزومند ہیں بلکہ شدت تعصب اور گمراہی کے پیار سے ان کی اندرونی حالت کی ایک کایا پلٹ ہو رہی ہے ان کو اس بات کی پروا نہیں کہ وہ کیونکر یقینی طور پر خدا پر ایمان لا سکتے ہیں اور وہ خدا کن صفات کا ہونا چاہئے جس پر یقینی ایمان آ سکتا ہے اور وہ کونسے امور ہیں جو خدا تعالیٰ کی ہستی کی نسبت یقین کو پیدا کر سکتے ہیں اور نیز یقین کی علامات کیا ہیں جو صاحب یقین کے لئے بطور امتیازی نشان کے ہوتی ہیں ۔ یادر ہے کہ اگر چہ کوئی مذہب کسی حد تک معقولیت کے رنگ میں ہو اور ظاہری تہذیب اور شائستگی سے موصوف بھی ہو لیکن صرف اسی حد تک نہیں کہا جائے گا کہ وہ مذہب خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کی صفات کی نسبت یقین کے مرتبہ تک پہنچاتا ہے بلکہ دنیا کے تمام مذہب اس وقت تک سراسر لغو اور بے فائدہ اور بیہودہ اور بے جان اور مردہ ہیں جب تک کہ ایک سالک کو یقین کے صافی چشمہ تک نہ پہنچاویں۔ افسوس کہ اکثر لوگ نہیں سمجھتے کہ خدا کے وجود اور اس کی ہستی اور اس کی عظمت اور قدرت اور دیگر صفات حسنہ پر یقین لانا کیا چیز ہے بلکہ اگر ان کی حالت پر افسوس سے یہ