گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 649
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۴۵ گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے لیکن وہ خوف کے تمام مقامات جن سے وہ پر ہیز کرتے ہیں ج کرتے ہیں جن کی چند نظیریں میں لکھ چکا ہوں ان کی نسبت سب کو یقین ہے کہ ان چیزوں کے نزدیک جا کر ہم ہلاک ہو جائیں گے اس لئے ان کے نزدیک نہیں جاتے بلکہ ایسی مہلک چیزیں اگر اتفاقا سامنے بھی آجائیں تو چیخیں مار کر ان سے دور بھاگتے ہیں ۔ سواصل حقیقت یہی ہے کہ ان چیزوں کے دیکھنے کے وقت انسان کو علم یقینی ہے کہ ان کا استعمال موجب ہلاکت ہے۔ مگر مذہبی احکام میں علم یقینی نہیں ہے بلکہ محض ظن ہے اور اُس جگہ رویت ہے اور اس جگہ محض کہانی ہے۔ سو مجرد کہانیوں سے گناہ ہرگز دور نہیں ہو سکتے۔ میں اس لئے تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر ایک مسیح نہیں ہزار مسیح بھی مصلوب ہو جائیں تو وہ تمہیں حقیقی نجات ہرگز نہیں دے سکتے ۔ کیونکہ گناہ سے یا کامل خوف چھڑاتا ہے یا کامل محبت اور مسیح کا صلیب پر مرنا اول خود جھوٹ اور پھر اس کو گناہ کا جوش بند کرنے سے کوئی بھی تعلق نہیں۔ سوچ لو کہ یہ دعوی تاریکی میں پڑا ہوا ہے جس پر نہ تجربہ شہادت دے سکتا ہے اور نہ مسیح کی خودکشی کی حرکت کو دوسروں کے گناہ بخشے جانے سے کوئی تعلق پایا جاتا ہے۔ حقیقی نجات کی فلاسفی یہ ہے کہ اسی دنیا میں انسان گناہ کے دوزخ سے نجات پا جائے مگر تم سوچ لو کہ کیا تم ایسی کہانیوں سے گناہ کے دوزخ سے نجات پا گئے یا ۲۷ کبھی کسی ۔ سی نے ان بیہودہ قصوں سے جن میں کچھ بھی سچائی نہیں اور جن کو حقیقی نجات - اور کے ساتھ کوئی بھی رشتہ نہیں نجات پائی ہے۔ مشرق و مغرب میں تلاش کرو۔ کبھی تمہیں ایسے لوگ نہیں ملیں گے جو ان قصوں سے اس حقیقی پاکیزگی تک پہنچ گئے ہوں جس سے خدا نظر آ جاتا ہے اور جس سے نہ صرف گناہ سے بیزاری ہوتی ہے بلکہ بہشت کی صورت پر سچائی کی لذتیں شروع ہو جاتی ہیں اور انسان کی روح پانی کی طرح بہ کر خدا کے آستانہ پر گر جاتی ہے اور آسمان