گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 560
۱۷۹ روحانی خزائن جلد ۱۸ ۵۵۶ نزول المسيح تاریخ بیان نمبر شمار یا جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اس وحی نے ندرجہ ذیل پیشگویاں بلائیں جودنیا پر اب ہوچکیں تاری امور بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۳ زنده گواه رویت سے رجوع کرتے ہیں ماسواس کے یہ عاجز بھی تو قانون قدرت کے تحت میں ہے اگر میری طرف سے بنیاد اس پیشگوئی کی صرف اسی قدر ہے کہ میں نے صرف یا وہ گوئی کے طور پر چند احتمال بیماریوں کو ذہن میں رکھ کر اور اٹکل سے کام لے کر یہ پیشگوئی شائع کی ہے تو جس شخص کی نسبت یہ پیشگوئی ہے وہ بھی تو ایسا کر سکتا ہے کہ انہی اٹکلوں کی بنیاد پر میری نسبت کوئی پیشگوئی کر دے بلکہ میں راضی ہوں کہ بجائے چھ برس کے جو میں نے اس کے حق میں میعاد مقرر کی ہے وہ میرے لئے دین ابرس لکھ دے۔ لیکھرام کی عمر اس وقت شاید زیادہ سے زیادہ تمین آبرس کی ہوگی اور وہ ایک جوان قوی ہیکل عمدہ صحت کا آدمی ہے اور اس عاجز کی عمر اس وقت پچاس برس سے کچھ زیادہ ہے اور ضعیف اور دائم المرض اور طرح طرح کے عوارض میں مبتلا ہے پھر باوجود اس کے مقابلے میں خود معلوم ہو جائے گا کہ کون سی بات انسان کی طرف سے ہے اور کون سی بات خدا تعالیٰ کی طرف سے۔ اور معترض کا یہ کہنا کہ ایسی پیشگوئیوں کا اب زمانہ نہیں ہے ایک معمولی فقرہ ہے جو اکثر لوگ منہ سے بول دیا کرتے ہیں۔ میری دانست میں تو مضبوط اور کامل صداقتوں کے قبول کرنے کے لئے یہ ایک ایسا زمانہ ہے کہ شائد اس کی نظیر پہلے زمانوں میں کوئی بھی مل نہ سکے ۔ ہاں اس زمانہ سے کوئی فریب اور مکر مخفی نہیں رہ سکتا مگر یہ تو راستبازوں کے لئے اور بھی خوشی کا د شخص مقام ہے کیونکہ جو شخص فریب اور سچ میں فرق کرنا جانتا ہے وہی سچائی کی دل سے عزت کرتا ہے اور بخوشی اور دوڑ کر سچائی کو قبول کر لیتا ہے پیشگوئی محمد علی صاحب ایم اے ایل ایل بی پلیڈر قادیان۔ مولوی غلام قادر صاحب سب رجسٹرار پشاور۔ میر ناصر نواب صاحب دہلوی۔ مفتی محمد صادق صاحب