گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 530 of 822

گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 530

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۵۲۶ نزول المسيح تاریخ بیان ۱۳۸ نمبر شمار یا جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اسی وی کی خارق عادت پیشگوئیاں جو نیا پر ظاہر ہوچکیں تاریخ لاہور بقیہ پیشگوئی نمبر ۲۷ پیشگوئی نمبر ۲۸ زنده گواه رویت نمبر ۲۸ ٨٧٤٠٧٧١٠ میں ان باتوں میں سے کسی بات کی علامت موجود نہ تھی (۳) سوم یہ کہ یہ الہام دلالت کر رہا ہے کہ آئندہ زمانہ میں کوئی آفت آنے والی ہے۔ اور جو شخص اخلاص کے ساتھ اس میں داخل ہو گا وہ اس آفت سے بچ جاوے گا اور براہین احمدیہ کے دوسرے مقامات سے ثابت ہو چکا ہے کہ وہ آفت طاعون شخص ہے سو یہ پیشگوئی بھی اس سے نکلتی ہے کہ جو شخص پوری ارادت اور اخلاص سے جس کو خدا پسند کر لیوے اس مسجد میں داخل ہو گا وہ طاعون سے بھی بچایا جائے گا یعنی طاعونی موت سے۔ يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَ اللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۲۴۰۔ ترجمہ۔ مخالف لوگ ارادہ کریں گے کہ خدا کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھاویں۔ یعنی بہت سے مکر کام میں لاویں گے۔ مگر خدا اپنے پیشگوئی چار برس ہوئے کہ یہ پیشگوئی پوری ہوئی نور کو کمال تک پہنچائے گا اگر چہ کافر لوگ کراہت ہی کریں ۔ یہ اُس زمانہ کی پیشگوئی ہے کہ جب کہ اس سلسلہ کے مقابل پر مخالفوں کو کچھ جوش اور اشتعال نہ تھا اور پھر اس پیشگوئی سے دینا برس بعد وہ جوش دکھلایا کہ انتہا تک پہنچ گیا یعنی تکفیر نامہ لکھا گیا قتل کے فتوے لکھے گئے اور صدہا کتا بیں اور رسالے چھاپ دئے گئے پیشگوئی نمبر ۲۷ کا ثبوت بیان ہو چکا اور پیشگوئی نمبر ۲۸ کا ثبوت خود ظاہر ہے کہ مخالف مولویوں نے اس سلسلہ کی بیخ کنی کے لئے ناخنوں تک زور لگایا مگر یہ سلسلہ آخر ترقی کر گیا۔