گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 478
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۷۴ نزول المسيح ۹۶ جلا دے گی۔ تم شیر کے آگے اپنے تئیں کھڑا نہیں کرتے کیونکہ تم یقین رکھتے ہو کہ وہ مجھے کھا لے گا ۔ تم کوئی زہر نہیں کھاتے کیونکہ تم یقین رکھتے ہو کہ وہ مجھے ہلاک کر دے گی ۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ بے شمار تجارب سے تم پر ثابت ہو چکا ہے کہ جس جگہ تمہیں یقین ہو جاتا ہے کہ ی فعل یا یہ حرکت بلا شبہ مجھے ہلاکت تک پہنچائے گی تم فی الفور اس سے رک جاتے ہو اور پھر وہ گناہ تم سے سرزد نہیں ہوتا ۔ پھر خدا تعالیٰ کے مقابل پر تم کیوں اس ثابت شدہ فلسفہ سے کام نہیں لیتے کیا تجربہ نے اب تک گواہی نہیں دی کہ بجز یقین کے انسان گناہ سے رک نہیں سکتا۔ ایک بکری یقین کی حالت میں اس مرغزار میں چر نہیں سکتی جس میں شہر سامنے کھڑا ہے پس جب کہ یقین لا یعقل حیوانات پر بھی اثر ڈالتا ہے اور تم تو انسان ہو۔ اگر کسی دل میں خدا کی ہستی اور اس کی ہیبت اور عظمت اور جبروت کا یقین ہے تو وہ یقین ضرور اسے گناہ سے بچالے گا اور اگر وہ نہیں بچ سکا تو اسے یقین نہیں کیا خدا پر یقین لانا اس یقین سے کم تر ہے کہ جو شیر اور سانپ اور زہر کے وجود کا یقین ہوتا ہے۔ سو وہ گناہ جو خدا سے دور ڈالتا ہے اور جہنمی زندگی پیدا کرتا ہے اس کا اصل سبب عدم یقین ہے۔ کاش میں کسی دف کے ساتھ اس کی منادی کروں کہ گناہ سے چھڑانا یقین کا کام ہے۔ جھوٹی فقیری اور مشیخت سے تو بہ کرانا یقین کا کام ہے۔ خدا کو دکھلا نا یقین کا کام ہے۔ وہ مذہب کچھ بھی نہیں اور گندہ ہے اور مردار ہے اور ناپاک ہے اور جہنمی ہے اور خود جہنم ہے جو یقین کے چشمہ تک نہیں پہنچا سکتا۔ زندگی کا چشمہ یقین سے ہی نکلتا ہے اور وہ پر جو آسمان کی طرف اڑاتے ہیں و ہیں وہ یقین ہی ہے۔ کو ہے۔ کوشش کرو کہ اس خدا کو تم دیکھ لو جس کی طرف تم نے جانا ہے۔ اور وہ مرکب یقین ہے جو تمہیں خدا تک پہنچائے گا۔ کس قدر اس کی تیز رفتار ہے کہ وہ روشنی جو سورج سے آتی ہے اور زمین پر پھیلتی ہے وہ بھی اس کی سرعت رفتار کے ساتھ مقابلہ نہیں کرسکتی اے پاکیزگی کے ڈھونڈ نے والو اگر تم چاہتے ہو کہ پاک دل بن کر زمین پر چلو اور فرشتے تم سے مصافحہ کریں تو تم یقین کی راہوں کو ڈھونڈ و۔ اور اگر تمہیں اس منزل تک ابھی رسائی نہیں تو اس شخص کا دامن پکڑو جس نے یقین کی آنکھ سے اپنے خدا کو