گناہ سے نجات کیوں کر مل سکتی ہے؟ — Page 234
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۳۰ دافع البلاء نہیں ہوتا کہ ایک رسول کے انکار سے دنیا میں کوئی تباہی بھیجی جائے بلکہ اگر لوگ شرافت اور تہذیب سے خدا کے رسولوں کا انکار کریں اور دست درازی اور بد زبانی نہ کریں تو ان کی سزا قیامت میں مقرر ہے۔ اور جس قدر دنیا میں رسولوں کی حمایت میں مری بھیجی گئی ہے وہ محض انکار سے نہیں بلکہ شرارتوں کی سزا ہے۔ اسی طرح اب بھی جب لوگ بد زبانی اور ظلم اور تعدی اور اپنی خباثتوں سے باز آ جائیں گے اور شریفانہ برتاؤ اُن میں پیدا ہو جائے گا۔ تب یہ تنبیہ اُٹھالی جائے گی مگر اس تقریب پر بہت سے سعادت مند خدا کے رسول کو قبول کر لیں گے اور آسمانی برکتوں سے حصہ لیں گے اور زمین سعادتمندوں سے بھر جائے گی (۳) تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالی بہر حال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے قادیاں کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اُس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔ اب اگر خدا تعالیٰ کے اس رسول اور اس نشان سے کسی کو انکار ہو اور خیال ہو کہ فقط رسمی نمازوں اور دعاؤں سے یا مسیح کی پرستش سے یا گائے کے طفیل سے یا ویدوں کے ایمان سے با وجود مخالفت اور دشمنی اور نافرمانی اس رسول کے طاعون دور ہو سکتی ہے تو یہ خیال بغیر ثبوت کے قابل پذیرائی نہیں ۔ پس جو شخص ان تمام فرقوں میں سے اپنے مذہب کی سچائی کا ثبوت دینا چاہتا ہے تو اب بہت عمدہ موقع ہے۔ گویا خدا کی طرف سے تمام مذاہب کی سچائی یا کذب پہچاننے کے لئے ایک نمایش گاہ مقرر کیا گیا ہے۔ اور خدا نے سبقت کر کے اپنی طرف سے پہلے قادیاں کا نام لے دیا ہے۔ اب اگر آریہ لوگ وید کو سچا سمجھتے ہیں تو اُن کو چاہیے کہ بنارس کی نسبت جو وید کے درس کا اصل مقام ہے ایک پیشگوئی کر دیں کہ اُن کا پرمیشر بنارس کو طاعون سے بچالے گا ۔ اور سناتن دھرم والوں کو چاہیے کہ کسی ایسے شہر کی نسبت جس میں گائیاں بہت ہوں مثلاً امرتسر کی نسبت پیشگوئی کر دیں کہ گئو کے طفیل اس میں طاعون نہیں آئے گی اگر اس قدر گئو اپنا معجزہ دکھاوے