گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page 430
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۴۳۰ اربعین نمبر ۴ شخص خدا اربعین نمبر ۴ امی اربعین نمبر ۳ میں گو ہم دلائل بینہ سے لکھ چکے ہیں کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ جو پر افترا کرے وہ ہلاک کیا جاتا ہے مگر تا ہم پھر دوبارہ ہم عقلمندوں کو یاد دلا - و دلاتے ہیں کہ حق یہی ہے جو ہم نے بیان کیا ۔ خبردار ایسا نہ ہو کہ وہ ہمارے مقابل پر کسی مخالف مولوی کی بات کو مان کر ہلاکت کی راہ اختیار کر لیں ۔ اور لازم ہے کہ قرآن شریف کی دلیل کو بنظر تحقیر دیکھنے سے خدا سے ڈریں۔ صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت لَوْ تَقَوَّلَ علينا کو بطور لغو نہیں لکھا جس سے کوئی حجت قائم نہیں ہو سکتی ۔ اور خدا تعالیٰ ہر ایک لغو کام سے پاک ہے۔ پس جس حالت میں اس حکیم نے اس آیت کو اور ایسا ہی اُس دوسری آیت کو جس کے یہ الفاظ ہیں۔ إِذًا لَّا ذَقْتُكَ ضِعْفَ الْحَيُوةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ * محل استدلال پر بیان کیا ہے تو اس سے ماننا پڑتا ہے کہ اگر کوئی شخص بطور افترا کے نبوت اور مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کرے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ نبوت کے مانند ہرگز زندگی نہیں پائے گا۔ ورنہ یہ استدلال کسی طرح صحیح نہیں ٹھہرے گا اور کوئی ذریعہ اس کے سمجھنے کا قائم نہیں ہوگا کیونکہ اگر خدا پر افترا کر کے اور جھوٹا دعوی مامور من اللہ ہونے کا کر کے تیس برس تک زندگی پالے اور ہلاک نہ ہو تو بلا شبہ ایک منکر کے لئے حق پیدا ہو جائے گا کہ یعنی اگر یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پر کچھ جھوٹ باندھتا تو ہم اس کو زندگی اور موت سے دو چند عذاب چکھاتے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ نہایت سخت عذاب سے ہلاک کرتے۔ منہ الحاقة : ۴۵ بنی اسرائیل : ۷۶