گورنمنٹ انگریزی اور جہاد — Page 283
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۸۳ تحفہ گولڑویہ جس میں مسیح موعود کا آنا ضروری ہے اور آخری حصہ اس کا وقت عصر کہلاتا ہے پس ابن واطیل کا اصل قول جو سر چشمہ نبوت سے لیا گیا ہے اس طرح پر معلوم ہوتا ہے نزول عيسى يكون في 2 قيه حاشيه وقت صلوة العصر في اليوم السادس من الايام المحمدية حين تمضى ثلثة ارباعه - چیز انسان کیلئے پیدا کی گئی ہے تو اب بتلاؤ کہ سماء الدنیا کو لاکھوں ستاروں سے پُر کر دینا انسان کو اس سے کیا فائدہ ہے؟ اور خدا کا یہ کہنا کہ یہ سب چیزیں انسان کے لئے پیدا کی گئی ہیں ضرور ہمیں اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ ان چیزوں کے اندر خاص وہ تاثیرات ہیں جو انسانی زندگی اور انسانی تمدن پر اپنا اثر ڈالتی ہیں۔ جیسا کہ متقدمین حکماء نے لکھا ہے کہ زمین ابتدا میں بہت نا ہموار تھی خدا نے ستاروں کی تاثیرات کے ساتھ اس کو درست کیا ہے اور یہ ستارے جیسا کہ یہ جاہل لوگ سمجھتے ہیں آسمان دنیا پر ہی نہیں ہیں بلکہ بعض بعض سے بڑے بڑے بعد پر واقع ہیں اسی آسمان مشتری نظر آتا ہے جو چھٹے آسمان پر ہے ایسا ہی زحل بھی دکھائی دیتا ہے جو ہفتم آسمان پر ہے اور اسی وجہ سے اس کا نام زحل ہے جو اس کا بعد تمام ستاروں سے زیادہ ہے کیونکہ لغت میں زحل بہت دور ہونے والے کو بھی کہتے ہیں۔ اور آسمان سے مراد وہ طبقات لطیفہ ہیں جو بعض بعض سے اپنے خواص کے ساتھ متمیز ہیں۔ یہ کہنا بھی جہالت ہے کہ آسمان کچھ چیز نہیں کیونکہ جہاں تک عالم بالا کی طرف سیر کی جائے محض خلا کا حصہ کسی جگہ نظر نہیں آئے گا۔ پس کامل استقراء جو مجہولات کی اصلیت دریافت کرنے کے لئے اول درجہ پر ہے صریح اور صاف طور پر سمجھاتا ہے کہ محض خلا کسی جگہ نہیں ہے۔ اور جیسا کہ پہلا آدم جمالی اور جلالی رنگ میں مشتری اور زحل کی دونوں تاثیریں لے کر پیدا ہوا اسی طرح وہ آدم جو ہزار ششم کے آخر میں پیدا ہوا وہ بھی یہ دونوں تاثیریں اپنے اندر رکھتا ہے۔ اس کے پہلے قدم پر مردوں کا زندہ ہونا ہے اور دوسرے قدم پر زندوں کا مرنا ہے یعنی قیامت میں ۔ خدانے