فتح اسلام — Page 42
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۲ فتح اسلام پہنچا تا بلکہ یہ روشنی ہمیشہ خدا تعالیٰ اپنے خاص بندوں کے ذریعہ سے ظلمت کے وقت میں آسمان سے نازل کرتا ہے اور جو آسمان سے اُتر ا وہی آسمان کی طرف لے جاتا ہے۔ سواے وے لوگو جو ظلمت کے گڑھے میں دبے ہوئے اور شکوک و شبہات کے پنجہ میں اسیر اور نفسانی جذبات کے غلام ہو صرف اسمی اور رسمی اسلام پر نازمت کرو اور اپنی سچی رفاہیت اور اپنی حقیقی بہبودی اور اپنی آخری کامیابی انہی تدبیروں میں نہ سمجھو جو حال کی انجمنوں اور مدارس کے ذریعہ سے کی جاتی ہیں۔ یہ اشغال بنیادی طور پر فائدہ بخش تو ہیں اور ترقیات کا پہلا زینہ متصور ہو سکتے ہیں مگر اصل مدعا سے بہت دور ہیں۔ شاید ان تدبیروں سے دماغی چالاکیاں پیدا ہوں یا طبیعت میں پُرفنی اور ذہن میں تیزی اور خشک منطق کی مشق حاصل ہو جائے یا ا عالمیت اور فاضلیت کا خطاب حاصل کر لیا جائے اور شاید مدت دراز کی تحصیل علمی کے بعد اصل مقصود کے کچھ مد بھی ہو سکیں مگر تا تریاق از عراق آورده شود مارگزیده مرده شود سو جا گو اور ہوشیار ہو جاؤ ایسا ما نہ ہو کہ ٹھوکر کھاؤ ۔ مبادا سفر آخرت ایسی صورت میں پیش آوے جو در حقیقت الحاد اور بے ایمانی کی صورت ہو یقیناً سمجھو کہ فلاح عاقبت کی امیدوں کا تمام مدار و انحصار ان رسمی علوم کی تحصیل پر ہرگز نہیں ہو سکتا اور اُس آسمانی نور کے اُترنے کی ضرورت ہے جو شکوک و شہبات کی آلائشوں کو دور کرتا اور ہوا و ہوس کی آگ کو بجھاتا اور خدا تعالیٰ کی سچی محبت اور سچے عشق اور سچی اطاعت کی طرف کھینچتا ہے۔ اگر تم اپنی کانشنس سے سوال کرو تو یہی جواب پاؤ گے کہ وہ سچی تسلی اور سچا اطمینان کہ جو ایک دم میں روحانی تبدیلی کا موجب ہوتا ہے وہ ابھی تک تم کو حاصل نہیں ۔ پس کمال افسوس کی جگہ ہے کہ جس قدر تم رسمی باتوں اور رسمی علوم کی اشاعت کے لئے جوش رکھتے ہو اس کا عشر عشیر بھی آسمانی سلسلہ کی طرف تمہارا خیال نہیں ۔ تمہاری زندگی اکثر ایسے کاموں کے لئے وقف ہو رہی ہے کہ اول تو وہ کام کسی قسم کا دین سے علاقہ ہی نہیں رکھتے اور اگر ہے بھی تو وہ علاقہ ۷۲ ایک ادنیٰ درجہ کا اور اصل مدعا سے بہت پیچھے رہا ہوا ہے۔ اگر تم میں وہ حواس ہوں اور وہ عقل