فتح اسلام — Page 27
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۷ فتح اسلام کہ یہ بات ظاہر ہے کہ ان پنجگانہ شاخوں کے احسن طریق اور وسیع طور پر جاری رہنے کے لئے کس قدر مسلمانوں کی جمہوری امداد در کار ہے۔ مثلاً ایک تالیف کے ہی سلسلہ کو غور کر کے دیکھو کہ اگر ہم پوری پوری اشاعت کی غرض سے اس خدمت کو اپنے ذمہ لیں تو اس کی تکمیل کے لئے کیا کچھ مالی وسائل کی ہمیں ضرورت پڑے گی کیونکہ اگر در حقیقت تکمیل اشاعت ہی ہماری غرض ہے تو ہمارا مدعا یہ ہونا چاہیے کہ ہماری دینی تالیفات جو جواہرات تحقیق اور تدقیق سے پر اور حق کے طالبوں کو راہ راست پر کھینچنے والی ہیں جلدی سے اور نیز کثرت سے ایسے لوگوں کو پہنچ جائیں جو بُری تعلیموں سے متاثر ہو کر مہلک بیماریوں میں گرفتار یا قریب قریب موت کے پہنچ گئے ہیں اور ہر وقت یہ امر ہماری مد نظر رہنا چاہیے کہ جس ملک کی موجودہ حالت ضلالت کے سم قاتل سے نہایت خطرہ میں پڑ گئی ہو بلا توقف ہماری کتابیں اس ملک ۴۵ میں پھیل جائیں اور ہر ایک متلاشی حق کے ہاتھ میں وہ کہتا میں نظر آویں لیکن ظاہر ہے کہ اس مدعا کا بوجہ اکمل و اتم اس طور سے حاصل ہونا ہرگز ممکن نہیں کہ ہم ہمیشہ یہی امر پیش نہاد خاطر رکھیں کہ ہماری کتابیں فروخت کے ذریعہ سے شائع ہوتی رہیں ۔ اور محض فروخت کے طور پر کتابوں کو شائع کرنا اور نفسانی ملونی کی وجہ سے دنیا کو دین میں گھسیڑ دینا نہایت نکما اور قابل اعتراض طریق ہے جس کی شامت کی وجہ سے نہ ہم جلدی سے اپنی کتابیں دنیا میں پھیلا سکتے ہیں اور نہ کثرت سے وہ کتا بیں لوگوں کو دے سکتے ہیں ۔ بلا شبہ یہ بات سچ اور بالکل سچ ہے کہ جس طرح ہم مثلاً ایک لاکھ کتاب کو مفت تقسیم کرنے کی حالت میں صرف ہیں روز میں وہ سب کتابیں دور دور ملکوں میں پہنچا سکتے ہیں اور عام طور پر ہر ایک فرقہ میں اور ہر جگہ پھیلا سکتے ہیں اور ہر ایک حق کے طالب اور راستی کے متلاشی کو دے سکتے ہیں ایسی اور اس طرح کی اعلیٰ درجہ کی کارروائی قیمت پر دینے کی حالت میں شاید ہمیں برس کی مدت تک بھی ہم نہیں کر سکیں گے۔ فروخت کی حالت میں کتابوں کو صندوقوں میں بند کر کے ہم کو خریداروں کی راہ دیکھنا چاہیے کہ کب کوئی آتا ہے یا خط بھیجتا ہے اور ممکن ہے کہ اس انتظار (۴۶) دراز کے زمانہ میں ہم آپ ہی اس دنیا سے رخصت ہو جائیں اور کتابیں صندوقوں میں