فتح اسلام — Page 583
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۸۳ ازالہ اوہام حصہ دوم اب لیجئے نمونہ کے طور پر کسی قدر بخاری کے دلائل پیش کرتا ہوں اگر کچھ منکرانہ جوش ہے تو رڈ کر کے دکھلا دیں۔ اور اگر سعادت ہے تو قبول کر لیں۔ وَ طُوبَى لِلسُّعَدَآءِ۔ إِفَادَاتُ الْبُخَارِي یہ عاجز پہلے اس سے اسی رسالہ میں بیان کر چکا ہے کہ عموم محاورہ قرآن شریف کا توفی کے لفظ کے استعمال میں یہی واقعہ ہوا ہے کہ وہ تمام مقامات میں اوّل سے آخر تک ہر ایک جگہ جو توفی کا لفظ آیا ہے اس کو موت اور قبض روح کے معنے میں لاتا ہے اور جب عرب کے قدیم و جدید اشعار وقصائد ونظم و نثر کا جہاں تک ممکن تھا تتبع کیا گیا اور عمیق تحقیقات سے دیکھا گیا تو یہ ثابت ہوا کہ جہاں جہاں تَوَفَّی کے لفظ کا ذوی الروح سے یعنی انسانوں سے علاقہ ہے اور فاعل اللہ جل شانہ کو ٹھہرایا گیا ہے ان تمام مقامات میں توفی کے معنے موت ۸۸۲ وقبض روح کے کئے گئے ہیں۔ اور اشعار قدیمہ وجدیدہ عرب میں اور ایسا ہی اُن کی نثر میں بھی ایک بھی لفظ توفی کا ایسا نہیں ملے گا جو ذوی الروح میں مستعمل ہو اور جس کا فاعل لفظا یا معناً خدائے تعالیٰ ٹھہرایا گیا ہو یعنی فعل عبد کا قرار نہ دیا گیا ہو اور محض خدائے تعالیٰ کا فعل سمجھا گیا ہو اور پھر اس کے معنے بجر قبض روح کے اور مراد ر کھے گئے ہوں۔ لغات کی کتابوں قاموس ۔ صحاح - صراح وغیرہ پر نظر ڈالنے والے بھی اس بات کو جانتے ہیں ۔ کہ ضرب المثل کے طور پر بھی کوئی فقرہ عرب کے محاورات کا ایسا نہیں ملا جس میں توفی کے لفظ کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے اور ذوی الروح کے بارہ میں استعمال میں لاکر پھر اس کے اور بھی معنے کئے ہوں بلکہ برابر ہر جگہ یہی معنے موت اور قبض روح کے کئے گئے ہیں اور کسی دوسرے احتمال کا ایک ذرہ راہ کھلا نہیں رکھا۔ پھر بعد اس کے اِس عاجز نے حدیثوں کی طرف رجوع کیا تا معلوم ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ اور خود آنحضرت صلعم اس لفظ توفی کو