فتح اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 415 of 748

فتح اسلام — Page 415

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۱۵ ازالہ اوہام حصہ دوم اور اس انقلاب عظیم پر خوب غور سے نظر دوڑانی چاہیے کہ چونکہ حضرت مسیح (اگر اُن کا نزول فرض کیا جائے ) ایسی حالت میں آئیں گے کہ اُن کو شریعت محمدیہ سے جو غیر زبان میں ہے کچھ بھی خبر نہیں ہوگی اور وہ اس بات کے محتاج ہوں گے کہ قرآنی تعلیم پر اُن کو اطلاع ہوا اور ان تفصیلات احکام دین پر بھی مطلع ہو جائیں جو احادیث کی رو سے معلوم ہوتے ہیں غرض شریعت محمدیہ کے تمام اجزاء پر خواہ وہ از قبیل عقائد ہیں یا از قسم عبادات یا از نوع معاملات یا از قبیل قوانین قضاء وفصل مقدمات اطلاع پانا اُن کے لئے ضروری ہوگا اور یہ تو ممکن ہی نہیں کہ معمر ہونے کی حالت میں ایک عمر خرچ کر کے دوسروں کی شاگردی کریں ﴿۵۸۴﴾ لہذا اُن کے لئے یہی لابدی اور ضروری ہے کہ جمیع اجزاء شریعت کے نئے سرے اُن پر نازل ہوں کیونکہ بجز اس طریق کے استعلام مجہولات کے لئے اور کوئی اُن کے لئے راہ نہیں۔ اور رسولوں کی تعلیم اور اعلام کے لئے یہی سنت اللہ قدیم سے جاری ہے جو وہ بواسطہ جبرائیل علیہ السلام کے اور بذریعہ نزول آیات ربانی اور کلام رحمانی کے سکھلائی جاتی ہیں اور جبکہ تمام قرآن کریم اور احادیث صحیحہ نبویہ نئے سرے معرفت جبرائیل علیہ السلام کے حضرت مسیح کی زبان میں ہی اُن پر نازل ہو جائے گی اور جیسا کہ احادیث میں آیا ہے جزیہ وغیرہ کے متعلق بعض بعض احکام قرآن شریف کے منسوخ بھی ہو جائیں گے تو ظاہر ہے کہ اس نئی کتاب کے اُترنے سے قرآن شریف توریت وانجیل کی طرح منسوخ ہو جائے گا اور مسیح کانیا قرآن جو قرآن کریم سے کسی قدر مختلف بھی ہوگا اجرا اور نفاذ پائے گا اور حضرت مسیح نماز میں اپنا قرآن ہی پڑھیں گے اور وہی قرآن جبراً قہراً دوسروں کو بھی سکھلایا جائے گا۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت یہ کلمہ بھی کہ لَا اِلهَ اِ إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ﴿٥٨٥) کسی قدر ترمیم و تنسیخ کے لائق ٹھہرے گا کیونکہ جبکہ کل شریعت محمدیہ کی نعوذ باللہ (نقل کفر کفر نباشد ) بیخ کنی ہو گئی اور ایک اور ہی قرآن گو وہ ہمارے قرآن کریم سے کسی قدر مطابق ہی سہی آسمان سے نازل ہو گیا تو پھر کلمہ بھی ضرور واجب التبدیل ہوگا ۔ بعض بہت اور