فتح اسلام — Page 413
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۱۳ ازالہ اوہام حصہ دوم ایسا خیال کیا گیا ہے کہ اُن کے نزول سے پہلے محمد ابن عبد اللہ مہدی کی بیعت میں سب داخل ہو چکیں گے تو اس صورت میں اور بھی یہ مصیبت پیش آئے گی کہ اُن کا مہدی کی بیعت سے تخلف کرنا سخت معصیت میں داخل ہوگا بلکہ وہ بموجب حديث مَن شَدَّ شُدَّ فِي النَّارِ ضرور مہدی کی بیعت کریں گے یا خلیفہ وقت کے نہ ماننے کی وجہ سے اُن پر فتوی ۔۔۔۔۔ لگ جائے گا۔ پھر اسی کتاب آثار القیامۃ کے صفحہ ۴۲۷ میں لکھا ہے کہ ابن خلدون کا قول ہے کہ متصوفین نے اپنے کشف سے یہ گمان کیا ہے کہ سن سات سو تینتالیس میں خروج دجال ہوگا ۔ پھر لکھتے ﴿۵۸۰ ہیں کہ یہ کشف بھی صحیح نہ نکلا۔ پھر لکھتے ہیں کہ یعقوب بن اسحاق کندی نے بھی کشف کی رو سے چھ سو اٹھانوے سال نزول مسیح کے لئے دریافت کئے تھے مگر اس سے بھی بہت زیادہ مدت گزر گئی لیکن اب تک مسیح نہ آیا۔ پھر لکھتے ہیں کہ ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں امید رکھتا ہوں کہ اگر میری عمر کچھ لمبی ہوگی تو عیسی بن مریم میرے ہی وقت میں ظہور کرے گا یعنی محمد بن عبد اللہ مہدی کا درمیان میں ہونا ضروری نہیں بلکہ امید سے بعید نہیں کہ میرے ہی وقت میں مسیح ابن مریم آجائے لیکن اگر میری عمر وفا نہ کرے تو جو شخص اس کو دیکھے میری طرف سے اس کو السلام علیکم کہہ دے۔ اس حدیث کو مسلم اور احمد نے بھی لکھا ہے۔ اس جگہ مولوی صدیق حسن صاحب لکھتے ہیں کہ اگر میرے جیتے جیتے حضرت مسیح آجائیں تو میری تمنا ہے کہ حضرت خاتم المرسلین کا السلام علیکم میں اُن کو پہنچا دوں مگر یہ سب تمنا ہی تھی ۔ خدائے تعالیٰ ان پر رحم کرے۔ مجدد الف ثانی صاحب نے ٹھیک لکھا ہے کہ جب مسیح آئے گا تو تمام مولوی اُن کی مخالفت پر آمادہ ہو جائیں گے اور خیال کریں گے ﴿۵۸۱ کہ یہ اہل الرائے ہے اور اجماع کو ترک کرتا ہے اور کتاب اللہ کے معنے الٹاتا ہے۔ پھر لکھتے ہیں کہ عیسی کی موت قبل از رفع کے بارے میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک یہ ہے کہ وہ موت کے بعد اُٹھایا گیا ہے اور پھر بھی آکر مرے گا اس لئے اُس کے لئے دو موتیں ہیں۔ اور ہر چند آیت وَرَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّا لے میں اور لیس کی موت کا ذکر نہیں لیکن صحیح مذہب مریم : ۵۸