فتح اسلام — Page 391
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۹۱ ازالہ اوہام حصہ دوم کے لفظ کو جو کل متنازعہ فیہ میں یعنی مسیح کی وفات کے متعلق ہے تیئیس جگہ ایک ہی معنوں پر اطلاق کر کے ایسا کھول دیا ہے کہ اب اس کے ان معنوں میں کہ روح قبض کرنا اور جسم کو چھوڑ دینا ہے ایک ذرہ شک و شبہ کی جگہ نہیں رہی بلکہ یہ اول درجہ کے بینات اور مطالب صریحہ ظاہرہ بدیہہ میں سے ہو گیا جس کو قطع اور یقین کا اعلیٰ مرتبہ حاصل ہے جس سے انکار کرنا بھی اول درجہ کی نادانی ہے۔ اب قرآن کریم میں اس لفظ کی تشریح کرنے میں صرف دو سبیل ہیں تیسرا کوئی سبیل نہیں ۔ (1) دائمی طور پر روح کو قبض کر کے جسم کو بیکار چھوڑ دینا جس کا دوسرے لفظوں میں امانت نام ہے یعنی مار دینا۔ (۲) دوسرے کچھ تھوڑی مدت کے لئے روح کا قبض کرنا اور جسم کو بیکار چھوڑ دینا جس کا دوسرے لفظوں میں انا مت نام ہے یعنی سلا دینا لیکن ظاہر ہے کہ محل متنازعہ فیہ سے دوسرے قسم کے معنے کو کچھ تعلق نہیں کیونکہ سونا اور پھر جاگ اُٹھنا ایک معمولی بات ہے ۔ جب تک انسان سویا رہا روح اس کی خدا تعالیٰ کے قبضہ میں رہی اور جب جاگ اُٹھا تو پھر روح اس جسم میں آگئی جو بطور بیکار چھوڑا گیا تھا۔ یہ بات صفائی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ ۵۴۲ جبکہ توفی کے لفظ سے صرف روح کا قبضہ میں کر لینا مراد ہے بغیر اس کے جو جسم سے کچھ سروکار ہو بلکہ جسم کا بیکار چھوڑ دینا تو فی کے مفہوم میں داخل ہے تو اس صورت میں اس سے بڑھ کر اور کوئی حماقت نہیں کہ توفی کے یہ معنے کئے جائیں کہ خدائے تعالیٰ جسم کو اپنے قبضہ میں کر لیوے کیونکہ اگر یہ معنے صحیح ہیں تو نمونہ کے طور پر قرآن کریم کے کسی اور مقام میں بھی ایسے معنے ہونے چاہئیں مگر ابھی ہم ظاہر کر چکے ہیں کہ قرآن کریم اول سے آخر تک صرف یہی معنی ہر یک جگہ مراد لیتا ہے کہ روح کو قبض کر لینا اور جسم سے کچھ تعلق نہ رکھنا بلکہ اس کو بیکار چھوڑ دینا مگر فرض کے طور پر اگر مسیح ابن مریم کے محل وفات میں دوسرے معنے مراد لیں تو اُن کا ماحصل یہ ہو گا کہ مسیح کچھ مدت تک سویا رہا اور پھر جاگ اُٹھا۔ پس اس سے تو