فتح اسلام — Page 362
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۶۲ ازالہ اوہام حصہ دوم ۴۸۸ کم نہیں جو اس عاجز نے خدائے تعالیٰ کی طرف سے مسیح ابن مریم کے رنگ میں ہو کر ان دجال سیرت لوگوں پر کیا ہے جن کو پاک چیزیں دی گئی تھیں مگر انہوں نے ساتھ اس کے پلید چیزیں ملا دیں اور وہ کام کیا جو دجال کو کرنا چاہیے تھا۔ اب یہ سوال بھی قابل حل ہے کہ مسیح ابن مریم تو دجال کے لئے آئے گا آپ اگر مسیح ابن مریم کے رنگ میں ہو کر آئے ہیں تو آپ کے مقابل پر دجال کون ہے؟ اس سوال کا جواب میری طرف سے یہ ہے کہ گو میں اس بات کو تو مانتا ہوں کہ ممکن ہے کہ میرے بعد کوئی اور مسیح ابن مریم بھی آوے اور بعض احایث کی رو سے وہ موعود بھی ہو اور کوئی ایسا د جال بھی آوے جو مسلمانوں میں فتنہ ڈالے مگر میرا مذہب یہ ہے کہ اس زمانہ کے پادریوں کی مانند کوئی اب تک دجال پیدا نہیں ہوا اور نہ قیامت تک پیدا ہوگا۔ مسلم کی حدیث میں ہے وعن عمران بن حصين قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ما بين خلق ادم الى قيام الساعة امر اكبر من الدجال یعنی عمران ابن حصین سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پیدائش آدم سے قیامت تک کوئی امر فتنہ اور ابتلاء کے رو سے دجال کے وجود سے بڑھ کر نہیں ۔ اب اوّل تو یا درکھنا چاہیے کہ لغت میں دجال جھوٹوں کے گروہ کو کہتے ہیں جو باطل کو حق کے ساتھ مخلوط کر دیتے ۴۸۹ ہیں اور خلق اللہ کے گمراہ کرنے کے لئے مکر اور تلیس کو کام میں لاتے ہیں ۔ اب میں دعوی کے ساتھ کہتا ہوں کہ مطابق منشاء مسلم کی حدیث کے جو ابھی میں بیان کر آیا ہوں اگر ہم حضرت آدم کی پیدائش سے آج تک بذریعہ ان تمام تحریری وسائل کے جو ہمیں ملے ہیں دنیا کے تمام ایسے لوگوں کی حالت پر نظر ڈالیں جنہوں نے دجالیت کا اپنے ذمہ کام لیا تھا تو اس زمانہ کے پادریوں کی دجالیت کی نظیر ہرگز ہم کو نہیں ملے گی ۔ انہوں نے ایک موہومی اور فرضی مسیح اپنی نظر کے سامنے رکھا ہوا ہے جو بقول اُن کے زندہ ہے