فتح اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 359 of 748

فتح اسلام — Page 359

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۵۹ ازالہ اوہام حصہ دوم ☆ * تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حتمی حدیثوں کی تکذیب لازم آتی ہے اور اس حدیث میں دجال کا یہ قول اني انا المسيح واني ان يوشك ان يوذن لي في الخروج جو زیادہ تر اس کے مسیح دجال ہونے پر دلالت کرتا ہے بظاہر اس شبہ میں ڈالتا ہے کہ آخری زمانہ میں وہ نکلنے والا ہے لیکن بہت آسانی سے یہ شبہ رفع ہو سکتا ہے جبکہ اس طرح پر سمجھ لیں کہ یہ عیسائی دجال بطور مورث اعلیٰ کے اس دجال کے لئے ہے جو عیسائی گروہ میں ہی پیدا ہو گا اور گرجا میں سے ہی ۔ نکلے گا۔ اور ظاہر ہے کہ وارث اور موروث کا وجود ایک ہی حکم رکھتا ہے اور ممکن ہے کہ اس بیان میں استعارات ہوں اور زنجیروں سے مراد وہ موانع ہوں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عیسائی واعظوں کو روک رہے تھے اور وہ مجبور ہو کر گویا ایک جگہ بند تھے۔ اور یہ اشارہ ہو کہ آخری زمانہ میں بڑی قوت کے ساتھ ان کا خروج ہوگا جیسا کہ ۴۸۳ آج کل ہے۔ اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ حدیث مذکورہ بالا میں اس دجال نے خدائی کا دعوی نہیں کیا بلکہ فقرہ وانی یوشک ان یوذن لي صاف دلالت کرتا رہا ہے کہ دجال کو خدائے تعالیٰ کے وجود کا اقرار ہے۔ اور حدیثوں میں کوئی ایسا لفظ پایا نہیں جاتا جس سے معلوم ہو کہ جساسہ والا دجال اپنے آخری ظہور کے وقت میں بالجبر خالق السموات والارض ہونے کا دعوی کرے گا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ تکبر کی راہ سے خداوند خداوند کہلائے گا جیسے اُن لوگوں کا طریقہ ہوتا ہے جو خدائے تعالیٰ کو بکلی فراموش کر دیتے ہیں اور اس کی پرستش اور اطاعت سے کچھ غرض نہیں رکھتے اور چاہتے ہیں کہ لوگ ان کو ربّی ربی کہیں یعنی خداوند خدا وند کر کے پکاریں اور ایسی اُن کی اطاعت کریں جیسی خدائے تعالیٰ کی کرنی چاہیے۔ اور یہی بد معاشی اور غفلت کا اعلیٰ درجہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کی تحقیر دل میں بیٹھ جائے ۔ مثلاً ایک ایسا امیر ہے کہ نماز پڑھنے سے منع کرتا ہے کہ واہیات کام ہے اس سے کیا فائدہ۔ اور روزہ پر ٹھٹھا کرتا ہے۔ اور خدائے تعالیٰ کی عظمت کو کچھ بھی چیز نہیں سمجھتا اور اس کی آسمانی تقدیروں کا قائل نہیں بلکہ اپنی تدبیروں اور مکروں کو تمام کامیابیوں کا مدار سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ لوگ ۴۸۴ انی یوشک “ ہونا چاہیے بحوالہ مشکوۃ المصابيح كتاب الفتن باب العلامات بين يدى الساعة - (ناشر) سہو کتابت معلوم ہوتا ہے کر رہا “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)