فتح اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 337 of 748

فتح اسلام — Page 337

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۳۷ ازالہ اوہام حصہ دوم بغیر خیال کسی ثواب کے انتہائی درجہ کا جوش اُن میں خلق اللہ کی بھلائی کے لئے ہوتا ہے اور خود بھی نہیں سمجھ سکتے کہ اس قدر جوش کسی غرض سے ہے کیونکہ یہ امر فطرتی ہوتا ہے۔ (۱۴) خدائے تعالیٰ کے ساتھ ان لوگوں کو نہایت کامل وفاداری کا تعلق ہوتا ہے اور ایک عجیب مستی جانفشانی کی اُن کے اندر ہوتی ہے اور اُن کی روح کو خدائے تعالیٰ کی روح کے ساتھ وفاداری کا ایک راز ہوتا ہے جس کو کوئی بیان نہیں کر سکا۔ اس لئے حضرت احدیث میں اُن کا ایک مرتبہ ہوتا ہے جس کو خلقت نہیں پہچانتی وہ چیز جو خاص طور پر اُن میں زیادہ ہے اور جو سر چشمہ تمام برکات کا ہے اور جس کی وجہ سے یہ ڈوبتے ہوئے پھر نکل آتے ہیں اور موت تک پہنچ کر پھر زندہ ہو جاتے ہیں اور ذلتیں اُٹھا کر پھر تاج عزت دکھا دیتے ہیں اور مہجور اور اکیلے ہو کر پھر نا گہاں ایک جماعت کے ساتھ نظر آتے ہیں وہ یہی راز وفاداری ہے جس کے رشتہ محکم کو نہ تلواریں قطع کر سکتی ہیں اور نہ دنیا کا کوئی بلوہ اور خوف اور مفسدہ اس کو ڈھیلا کر سکتا ہے ۔ السلام عليهم من الله و ملائكته و من الصلحاء اجمعين - ۴۴۶ (۱۵) پندرہویں علامت ان کی علم قرآن کریم ہے۔ قرآن کریم کے معارف اور اور حقائق ۴۴۷ ا و لطائف جس قدر ان لوگوں کو دئے جاتے ہیں دوسرے لوگوں کو ہرگز نہیں دئے جاتے ۔ یہ لوگ وہی مطهرون ہیں جن کے حق میں اللہ جل شَانُهُ فرماتا ہے لَّا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (۱۶) ان کی تقریر وتحریر میں اللہ جل شانہ ایک تاثیر رکھ دیتا ہے جو علماء ظاہری کی تحریروں و تقریروں سے نرالی ہوتی ہے اور اس میں ایک ہیبت اور عظمت پائی جاتی ہے اور بشرطیکہ حجاب نہ ہو دلوں کو پکڑ لیتی ہے۔ (۱۷) اُن میں ایک ہیبت بھی ہوتی ہے جو خدائے تعالیٰ کی ہیبت سے رنگین ہوتی ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ ایک خاص طور پر اُن کے ساتھ ہوتا ہے اور اُن کے چہروں پر الواقعة : ٨٠