دافع البَلاء — Page 696
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۹۲ عصمت انبياء عليهم السلام کرنا چاہتے ہیں انہیں انجیلوں کے حوالہ سے ایک فاضل یہودی نے اپنی کتاب میں یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ نعوذ باللہ یہ انسان در حقیقت ایک دنیا پرست اور مگار تھا جس سے نہ کوئی معجزہ ہوا اور نہ کوئی پیشگوئی سچی نکلی اور وہ لکھتا ہے کہ انجیلوں میں جو کچھ بیان کیا جاتا ہے کہ گویا مسیح نے بہت سے معجزات یہودیوں کو دکھلائے یہ قول خود انجیلوں کے ہی بیان سے جھوٹ ثابت ہوتا ہے کیونکہ انجیل کی گواہی سے ثابت ہے کہ جب بزرگانِ قوم یسوع اسے سے کوئی معجزہ طلب کرتے تھے تو اس کے جواب میں یسوع کا یہی طریق تھا کہ وہ ان بزرگوں کو گندی گالیاں دے کر یہی کہا کرتا تھا کہ ان کو کوئی معجزہ دکھایا نہیں جائے گا۔ اور پھر کہتا ہے کہ اگر ہم مان بھی لیں کہ بعض بیماروں کو اس نے اچھا کیا تھا تو یہ کوئی مفید دلیل اس کی خدائی کے لئے نہیں کیونکہ اسی زمانہ میں اس کے مخالف بھی ایسے معجزات دکھاتے تھے اور پھر کیا عقل قبول کر سکتی ہے کہ ایسے معجزات جن سے بہت بڑھ کر اور نبی دکھلاتے رہے ان سے یسوع کا خدا ہونا ثابت ہو جائے گا غرض جبکہ یہودیوں نے نہایت سختی سے حضرت مسیح کی توہین کی تو اس کا ایک ضروری نتیجہ تھا کہ اس تفریط کے مقابل پر افراط بھی کی جاتی پس جب افراط کا سیلاب عیسائیوں میں زور سے چلا اسی زمانہ میں حضرت مسیح کے خدا بنانے کے لئے بنیا د رکھی گئی یہ بات اُس وقت بخوبی سمجھ آ سکتی ہے جبکہ ایک طرف یہودیوں کے حملوں کو دیکھا جائے اور دوسری طرف ان حملوں سے بچنے کے لئے عیسائیوں کی مبالغہ آمیز باتوں کو غور سے سوچا جائے اب چونکہ یہودیوں کی کتابیں بھی اشاعت پا چکی ہیں اور بعض فاضل یہودیوں نے ان کو فرانسیسی زبان میں شائع کیا ہے اور پھر انگریزی زبان میں بھی وہ چھپ گئی ہیں لہذا ان دنوں میں حق کے طالبوں کے لئے اصل حقیقت سمجھنے کے لئے نہایت آسانی ہوگئی ہے۔ یہودیوں کے تمام فرقے اس بات پر متفق ہیں کہ جب سے کہ حضرت موسیٰ کو توریت ملی اور پھر وقتا فوقتا نبی آتے رہے کسی نے تثلیث کی تعلیم نہیں دی بلکہ یہی تعلیم دیتے رہے کہ تمہارا