دافع البَلاء — Page 679
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۷۵ عصمت انبياء عليهم السلام ڈالا جائے گا مگر مُذْنِبُ کے لئے کوئی وعید نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ يَّأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوْتُ فِيهَا وَلَا يَحْیی لے یعنی جو شخص خدا کے پاس مجرم ہو کر آئے گا۔ اس کی سزا جہنم ہے نہ اس میں وہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔ سو اس جگہ خدا نے مُجْرِمًا کہا مُذنبا نہیں کہا کیونکہ بعض صورتوں میں معصوم کو بھی مذہب کہہ سکتے ہیں مگر مجرم نہیں کہہ سکتے اس پر ایک اور دلیل ۔ ہے اور وہ یہ ہے کہ سورۃ آل عمران میں یہ آیت ہے وَاذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّنَ لَمَا أَتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَبٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقُ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ (191) اصْرِى قَالُوا اَقْرَرْنَا کے اس آیت سے بنص صریح ثابت ہوا کہ تمام انبیاء جن میں حضرت مسیح بھی شامل ہیں مامور تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاویں اور انہوں نے اقرار کیا کہ ہم ایمان لائے اور پھر جب آیت وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ کے کو اس آیت کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے اور ذنب سے مراد نعوذ باللہ جرم لیا جائے تو حضرت عیسیٰ بھی اس آیت کی رو سے مجرم ٹھہریں گے کیونکہ وہ بھی اس آیت کی رو سے ان مومنین میں داخل ہیں جو آنحضرت پر ایمان لائے پس بلاشبہ وہ بھی مذنب ٹھہرے۔ یہ مقام عیسائیوں کو غور سے دیکھنا چاہئے ۔ پس ان آیات سے بوضاحت تمام ثابت ہوا کہ اس جگہ ذنب بمعنی جرم نہیں ہے بلکہ انسانی کمزوری کا نام ذنب ہے جو قابل الزام نہیں ۔ اور مخلوق کی فطرت کے لئے ضروری ہے کہ یہ کمزوری اس میں موجود ہو اور کمزوری کا نام اس لئے ذنب رکھا ہے کہ انسان کی فطرت میں طبعا یہ قصور اور کمی واقع ہے تا وہ ہر وقت خدا کا محتاج رہے اور تا اس کمزوری کے دبانے کے لئے ہر وقت خدا سے طاقت مانگتا رہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ بشری کمزوری ایک ایسی چیز ہے کہ اگر خدا کی طاقت اس کے ساتھ شامل نہ ہو تو نتیجہ اس کا بجز ذنب کے اور کچھ نہیں پس جو چیز موصل إلى الذنب ہے اطه : ۷۵ ۲ ال عمران : ۸۲ ۳ محمد : ۲۰