دافع البَلاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 416 of 822

دافع البَلاء — Page 416

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۱۲ نزول المسيح بد قسمت ہے اور خدا کا پختہ ارادہ ہے کہ اس کو ہلاک کر دے یہ کیسی مورد غضب الہی ہے کہ ایک تو دجال کے قبضہ میں دی گئی اور اب تک سچے مسیح اور مہدی کا نہ آسمان پر کچھ پتہ ملتا ہے نہ زمین پر ۔ ہزار چیچنیں بھی مارو وہ دونوں گمشدہ جواب بھی نہیں دیتے کہ زندہ ہیں یا مردہ اور کدھر ہیں اور کہاں ہیں۔ نبیوں کے مقرر کردہ وقت بھی گزر گئے اور اُمت کو عیسائی مذہب نے کھا لیا مگر نہ خدا کو رحم آیا اور نہ مہدی اور مسیح کے دل نرم ہوئے ۔ بعض نادان کہتے ہیں کہ بے شک قرآن سے مسیح ابن مریم کی وفات ثابت ہوتی ہے اور سورۃ نور اور سورۃ فاتحہ وغیرہ سورتوں پر نظر غائر کر کے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس اُمت کے کل خلفاء اسی امت میں سے ہوں گے اور ہم مانتے ہیں کہ صلیبی مذہب نے بھی بہت کچھ فتنہ پیدا کیا ہے اور یہ وہ مصیبت ہے کہ اسلام پر اس سے پہلے کبھی نہیں آئی ۔ وقت اور زمانہ بے شک ایسے مصلح کو چاہتا ہے جو صلیبی طوفان کا مقابلہ کرے اور صدی کا سر بھی اسی کو چاہتا تھا اور صدی میں سے بھی قریبا پانچواں حصہ گزر گیا۔ سب کچھ سیچ لیکن ہم کیونکر مان لیں کیونکہ اس شخص کے عقائد ہمارے علماء کے عقائد سے مختلف ہیں اگر یہ اُن کا ہمزبان ہوتا تو ہم قبول کر سکتے۔ اب دیکھو کہ یہ خیالات اُن کے کس قدر دیوانگی کے ہیں۔ جب آپ ہی قائل ہیں کہ عیسی ابن مریم کی حیات اور نزول میں علماء غلطی پر ہیں تو پھر خدا کا مر سل کیونکر اس غلطی کو مان لے ماسوا اس کے جبکہ مسیح موعود کا نام حکم ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اسلام کے بہتر فرقوں میں فیصلہ کرے اور بعض خیالات رڈ کرے اور بعض کی تصدیق کرے۔ یہ ۳۵ کیونکر ہو سکے کہ جو حکم کہلاتا ۔ جو حکم کہلاتا ہے وہ تمہارا سب رطب یا بس کا ذخیرہ مان لے اور پھر اس کے وجود سے فائدہ کیا ہوا اور کس وجہ سے اس کا نام حکم رکھا گیا ۔ اس لئے ضروری تھا کہ وہ رطب یا بس کے ذخیرہ میں سے بعض رڈ کرے اور بعض قبول کرے۔ اور اگر سب کچھ قبول کرتا جائے تو پھر حکم کس بات کا ہوا ۔ مثلاً دیکھو تم میں ایک فرقہ ۷۲