دافع البَلاء — Page 411
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۰۷ نزول المسيح کہ نکل چکا۔ اور قرآن اور پہلی کتابوں اور سنیوں اور شیعوں کی حدیثوں کے موافق طاعون بھی ملک میں ظاہر ہوگئی اور حج بھی روکا گیا ۔ اور بجائے اونٹوں کے نئی سواریاں بھی پیدا را ہو ہو گئیں گئیں اور ا کسر صلیب کی ضرورت بھی سخت محسوس ہونے لگی کیونکہ انتیس لاکھ نو مرتد عیسائی پنجاب اور ہندوستان میں ظاہر ہو گیا اور آدم سے چھ ہزار برس بھی گزر گیا مگر اب تک تمہارا مسیح نہ آیا۔ کیا خدا نے نشان نمائی میں کچھ کسر رکھی۔ کیا اُس نے پیشگوئی کی شرطوں کے موافق آتھم کی زندگی کا خاتمہ نہ کیا۔ کیا اُس نے قطعی مدت اور میعاد کے موافق لیکھر ام کے فتنہ سے زمین کو پاک نہ کیا۔ کیا اُس وقت جبکہ اعتراض کیا گیا کہ اخویم مولوی نوردین صاحب کا لڑکا فوت ہو گیا ہے خدا نے یہ خبر نہ دی کہ ایک اور لڑکا اُن کے گھر میں پیدا ہو گا اور دیکھو نشان یہ ہے کہ اُس کے بدن پر خو ہے کہ اُس کے بدن پر خوفناک پھوڑے ہوں گے۔ پس کس قدر گھلا گھلا نشان تھا کہ وہ لڑکا پیدا ہوا جس کا نام عبدالحی ہے اور اُس کے بدن پر خوفناک پھوڑے تھے جن کے نشان اب تک موجود ہیں ۔ اور یہ پیشگوئی صدہا اشتہاروں کے ذریعہ سے ملک میں شائع کی گئی۔ اور نیز یہ پیشگوئی کہ اس عاجز کے گھر میں چارلڑ کے پیدا ہوں گے اور عبد الحق غزنوی ابھی زندہ ہو گا کہ چوتھا لڑکا پیدا ہو جائے گا کس زور سے بذریعہ اشتہارات شائع کی گئی تھی اور کیسی صفائی سے پوری ہوئی مگر کون اس پر ایمان لایا اور یہ سب نشان صرف دو چار نہیں بلکہ ڈیڑھ سو سے بھی زیادہ نشان ہیں۔ اگر ان نشانوں کے گواہ جنہوں نے یہ نشان دیکھے جواب تک زندہ موجود ہیں صف باندھ کر کھڑے کئے جائیں تو ایک بھاری گورنمنٹ کے لشکر کے موافق اُن کی تعداد ہوگی ۔ اب کس قدر ظلم ہے کہ اس قدر نشانوں کو دیکھ کر پھر کہے جاتے ہیں کہ کوئی نشان ظاہر ۳۰ نہیں ہوا اور مولویوں کے لئے تو خود ان کی بے علمی کا نشان اُن کے لئے کافی تھا کیونکہ