دافع البَلاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 397 of 822

دافع البَلاء — Page 397

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۳۹۳ نزول المسيح فضل ہے موت بہت کم ہے۔ غرض یہ معمولی وبائیں ہیں جو اس موسم میں آتی ہیں۔ اور جاہل لوگ جن ۱۵ کو فن طبابت کی کچھ بھی خبر نہیں ہر ایک بیماری کو ناحق طاعون بنا دیتے ہیں اور ایسے اڈیٹر جوا جہل الجہلاء ہیں وہ جاہلوں کی باتوں کو ایسا قبول کر لیتے ہیں کہ گویا ایک بڑے اور تجربہ کار ڈاکٹر نے ان کو خبر دی ہے۔ حالانکہ طاعون کی مرض ایسی ہے کہ اس کی تشخیص کرنے میں بڑے بڑے ڈاکٹروں کی عقل بھی چکر کھا جاتی ہے۔ عجیب تر یہ ہے کہ بعض وقت بیماروں کو پھوڑے نکلتے ہیں پھر بھی وہ طاعون نہیں ہوتی ۔ اس لئے یہ امر بڑا مشکل امر ہے۔ گذشتہ دنوں میں مشہور ہوا تھا کہ دہلی میں طاعون پھوٹ پڑی لیکن تحقیقات کے بعد یہی ثابت ہوا کہ وہ ایک قسم کے محرقہ تپ ہیں نہ طاعون ۔ اور خود طاعو نیں بھی دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک وبائی اور ایک غیر وبائی ۔ وبائی وہ ہوتی ہیں جو جلد جلد پھیلتی ہیں اور متعدی ہوتی ہیں اور موتیں تیز قدم کے ساتھ بڑھتی جاتی ہیں اور غیر وبائی طاعونیں خوفناک طور پر نہیں پھیلتیں وہ زہر ناک پھنسیاں ہیں جو کبھی کان میں نکلتی ہیں اور کبھی ہتھیلی میں اور کبھی چھاتی پر اور کبھی ناک پر اور کبھی کان کے پیچھے اور کبھی لب پر اور کبھی کسی اُنگلی پر اور کبھی کسی اور حصہ بدن پر ۔ یہ سب طاعونیں ہیں اگر یہ انسانوں میں زور کے ساتھ نہ پھیلیں اور کثرت موت کا موجب نہ ہوں تو اُس وقت تک یہ وبائی طاعون نہیں کہلا تیں غرض اس مرض کی تشخیص بہت مشکل ہے اور خود بڑے بڑے طبیب اس میں غلطیاں کھا سکتے ہیں چہ جائیکہ جاہل بازاری جو اس کو چہ سے محض نا واقف اور انسانیت سے بہت ہی تھوڑا حصہ رکھتے ہیں۔ اس مرض میں ایک اور خاصیت ہے کہ تیزی کے زمانہ میں جبکہ موتوں کا گرم بازار ہوتا ہے ہولناک حملے اس کے ہوتے ہیں اور پھر جب موسم کی تبدیلی سے اور یا اندرونی اسباب سے جن کا انسانوں کو پورا علم نہیں اس کی تیزی کم ہوتی جاتی ہے تو بعض انسانوں پر اس کا ایسا اثر خفیف ہوتا ہے کہ اس کا پھوڑا ایک معمولی پھوڑا اور اس کا تپ ایک معمولی تپ ہوتا ہے اور در حقیقت اس حالت کا نام طاعون نہیں بلکہ وہ زہریلی مرض ایک معمولی مرض کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ اب ہم نصیحتاً کہتے ہیں کہ آئندہ پیسہ اخبار ایسے افتراؤں اور قابل شرم جھوٹوں سے باز آ جائے ور نہ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ یہ جھوٹ ہمیشہ اس کو ہضم ہو سکیں اور افسوس کہ بعض امرتسر کے سفلہ طبع بھی اپنے