دافع البَلاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 305 of 822

دافع البَلاء — Page 305

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۳۰۱ الهدى هاض۔ وجور فاض ۔ وإن الفتن مطرت عليه ولا كمطر الوابل۔ چور ہو گیا ہے اور موسلا دھار مینہ کی طرح فتنے اس پر برس رہے ہیں۔ وقام لصيده أفواج العـدا كـالـحـابل۔ وما بقى شيء اور دشمنوں کی فوجیں شکاری کی طرح اس کے پھانسنے کو آمادہ ہیں۔ اور اب تسر القلوب۔ وتدرأ الكروب۔ وظهر المسلمون كعطاشى | ایسی کوئی بات نہیں جو دلوں کو خوش کرے اور دکھوں کو دور کرے۔ اور مسلمان جنگل کے في فلوات و كمثل مرضى عند سكرات۔ وما بقى پیاسے یا اُس مریض کی طرح ہیں جو سانس توڑ رہا ہو۔ ذری سی فيهم إلا رمق حياة۔ أو قطرة من فرات أو قشرة من ثمرات۔ جان ان گئی وإنهم قد ابتلوا بأنواع أمراض ۔ وأقسام أعراض ۔ وفسد طرح طرح کی میں گرفتار میں بیماریوں ره ہے۔ ہیں۔ اور اور ما ظهر وما بطن۔ ووهن من جهل ومن فطن۔ وتعامى من ۵۷ ظاہر اور باطن بگڑ گیا۔ اور نادان اور دانا بودے ہو گئے۔ اور مسافر تغرب ومن قطن۔ وغابت الأيام الغُرّ۔ ونابت الأحداث الغبر۔ اور مقیم اندھے بن گئے اور اچھے دن دُور ہو گئے اور بُرے دن آ گئے وغير الدين وقرب إلى تلف ۔ وصار بحره كجلف۔ وآثر الناس اور دین تبدیل ہو کر تلف ہونے پر آگیا اور اس کا دریا خالی مٹکے کی طرح ہو گیا اور على الصدق الأراجيف۔ وعلى القصر المنيف من الحق لوگوں نے صدق پر جھوٹی نکمی باتوں کو اور حق کی عالی شان عمارت پر مٹی کو الكنيف۔ ولما ضلوا ما بقى معهم دنياهم وآنسوا التكاليف۔ اختیار کر لیا۔ اور گمراہ ہونے کے بعد دنیا بھی جاتی رہی اور مصیبتیں دیکھیں