دافع البَلاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 291 of 822

دافع البَلاء — Page 291

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۸۷ الهدى ويُنصرون۔ ويأخذون ثـغـورهـم ويـتـمـلـكـون۔ ومن كل حدب وہ ان کی حدوں اور مملکتوں پر قابض ہو رہے ہیں اور ہر ایک ریاست کو دباتے چلے جاتے ينسلون۔ وما نصرهم الله الرحمته عليهم بل نصرهم ہیں۔ خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کو اس لئے نصرت نہیں دی کہ وہ ان پر رحیم ہے بلکہ اس لئے کہ لغضبه على المسلمين لو كانوا يعلمون۔ وكيف أُظهر اس کا غضب مسلمانوں پر بھڑ کا ہوا ہے کاش مسلمان جانتے۔ اور اگر یہ متقی ہوتے تو کیونکر ممکن عليهم أعداء هم إن كانوا يتقون بل لما تركوا الدعاء و ۴۳) تھا کہ ان کے دشمن ان پر غالب کئے جاتے ۔ بلکہ جب انہوں نے دعا اور عبادت کو چھوڑ التعبد۔ ما عبأ بهم ربهم فهم بما كسبوا يُعذِّبون۔ وإن شر الدواب دیا تب خدا نے بھی ان کی کچھ پروانہ کی ۔ سو یہ اب اپنی کرتوتوں کے سبب سزا پا رہے ہیں اور قوم فسقوا بعد إيمانهم ويعملون السيئات ولا يخافون۔ فيما یقیناً خدا کے نزدیک سب جانداروں سے بدتر وہ لوگ ہیں جو ایمان کے بعد فاسق ہو جائیں نكثوا عهد الله ونقضوا حدود الفرقان۔ طوّحت بهم طوائح اور بدکاریاں کریں اور نہ ڈریں۔ خدا کا عہد توڑنے اور قرآن کی حدود کی بے عزتی کرنے کے الزمان۔ وخرج من أيديهم كثير من البلدان ۔ وأنأتهم سبب سے خطرناک حادثے ان پر نازل ہو رہے ہیں۔ اور بہت سے شہران کے ہاتھوں سے نکل غفلتهم عن حقوقهم وضربت عليهم خيام أهل الصلبان۔ گئے ہیں ۔ غفلت نے ان کو حقوق سے دور کر دیا ہے اور پرستاران صلیب کے خیمے ان کے ملکوں نکالا من الله وأخذا من الديان۔ إنهم بارزوا الله میں آ لگے ہیں ۔ یہ سب خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا اور گرفت ہے۔ از بسکہ انہوں نے بدکاریاں بالمعصية۔ فـولـوا الدبر من الكفرة۔ وما أخزاهم عداهم ولكن کر کے خدا کا مقابلہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کفار سے شکست کھا گئے ۔ دشمنوں نے انہیں