دافع البَلاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 822

دافع البَلاء — Page 248

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۴۴ دافع البلاء جو سالہائے دراز سے خدمت اور نصرت میں مشغول اور دن رات صحبت میں رہتے ہیں ان سے عفو تقصیر نہ کرائی کہ کی کیونکہ اس نے جی نے جماعت کے تمام محو کے تمام مخلصوں کی توہین کی کہ اپنے نفس کو ان ۲۴ سب پر مقدم کر لیا ۔ حالانکہ خدا نے بار بار براہین احمدیہ میں ان کی تعریف کی اور ان کو سابقین قرار دیا اور کہا۔ اصحاب الصفة و ما ادراك ما اصحاب الصفة۔ اور جبیز اس روٹی خشک کو کہتے ہیں کہ دانت اس کو توڑ نہ سکیں ۔ اور وہ دانت کو توڑے اور حلق سے مشکل سے اترے اور امعاء کو پھاڑے اور قولنج پیدا کرے ۔ پس اس لفظ سے بتلایا کہ چراغ دین کی یہ رسالت اور یہ الہام محض جبیز اور اس کے لئے مہلک ہیں ۔ مگر دوسرے اصحاب جن کی توہین کرتا ہے اُن پر مائدہ نازل ہو رہا ہے اور اُن کو خدا کی رحمت سے بڑا حصہ ہے۔ مائده چیزیست دیگر خشک نان چیزی دگر خوردنی هرگز نباشد نان خشک اے بے ہنر دوستان را مانده بدهند از مهر و کرم پارہ ہائے خشک نان بیگانگان را نیز هم نیز هم پیش سگان آں خشک نان مے افگنند مانده از لطف ها پیش عزیزان می برند ترک کن این خشک ناں را ہوش کن فرزانہ باش گر خردمندی پئے آں مائدہ دیوانہ باش منه اس رسالہ کا نام دَافِعُ البَلَاءِ وَمِعْيَارِ أَهْلَ الْإِصْطِفَاءِ رکھا گیا ہے۔