دافع البَلاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 822

دافع البَلاء — Page 229

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۲۵ دافع البلاء وہ بات قبول کے لائق ہے جو جلد تر سمجھ میں آ سکتی ہے اور جو اپنے ساتھ کوئی ثبوت رکھتی ہے سوئیں وہ بات مع ثبوت پیش کرتا ہوں ۔ چار سال ہوئے کہ میں نے ایک پیشگوئی شائع کی تھی کہ پنجاب میں سخت طاعون آنے والی ہے اور میں نے اس ملک میں طاعون کے سیاہ درخت دیکھے ہیں جو ہر ایک شہر اور گاؤں میں لگائے گئے ہیں ۔ اگر لوگ تو بہ کریں تو یہ مرض دو جاڑہ سے بڑھ نہیں سکتی خدا اس کو رفع کر دے گا مگر بجائے تو بہ کے مجھ کو گالیاں دی گئیں اور سخت بد زبانی کے اشتہار شائع کئے گئے جس کا نتیجہ طاعون کی یہ حالت ہے جو اب دیکھ رہے ہو۔ خدا کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوئی ۔ اس کی یہ عبارت ہے ۔ اِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَومٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ إِنَّهُ أوَى الْقَرْيَةَ ۔ یعنی خدا نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ اس بلائے طاعون کو ہرگز دور نہیں کرے گا جب تک لوگ ان خیالات کو دور نہ کر لیں جو اُن کے دلوں میں ہیں یعنی جب تک وہ خدا کے مامور اور رسول کو مان نہ لیں تب تک طاعون دور نہیں ہوگی اور وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا تا تم حاشیہ اوی عربی لفظ ہے جس کے معنے ہیں تباہی اور انتشار سے بچانا اور اپنی پناہ میں لے لینا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ طاعون کی قسموں میں سے وہ طاعون سخت بر بادی بخش ہے جس کا نام طاعون جارف ہے یعنی جھاڑو دینے والی جس سے لوگ جا بجا بھاگتے ہیں اور کتوں کی طرح مرتے ہیں۔ یہ حالت انسانی برداشت سے بڑھ جاتی ہے۔ پس اس کلام الہی میں یہ وعدہ ہے کہ یہ حالت کبھی قادیاں پر وارد نہیں ہوگی ۔ اس کی تشریح یہ دوسرا الہام کرتا ہے کہ لولا الاكرام لهلک المقام یعنی اگر مجھے اس سلسلہ کی عزت ملحوظ نہ ہوتی تو میں قادیاں کو بھی ہلاک کر دیتا۔ اس الہام سے دو باتیں سمجھی جاتی ہیں (۱) اول یہ کہ کچھ حرج نہیں کہ انسانی برداشت کی حد تک کبھی قادیاں میں بھی کوئی واردات شاذونا در طور پر ہو جائے جو بر بادی بخش نہ ہو اور موجب فرار وانتشار نہ ہو کیونکہ شاذ و نا در معدوم کا حکم رکھتا ہے۔ (۲) دوسری یہ کہ یہ امر ضروری ہے کہ جن دیہات اور شہروں میں بمقابلہ قادیان کے سخت سرکش اور شریر اور ظالم اور بد چلن اور مفسد اور اس سلسلہ کے خطرناک دشمن رہتے ہیں اُن کے شہروں یا دیہات میں ضرور بربادی بخش طاعون پھوٹ پڑے گی یہاں تک کہ لوگ بے حواس ہو کر ہر طرف بھاگیں گے ہم نے آوی کا لفظ جہاں تک وسیع ہے اُس کے مطابق یہ معنے کر دیئے ہیں اور ہم دعوے سے لکھتے ہیں کہ قادیاں میں کبھی طاعون جارف نہیں پڑے گی جو گاؤں کو ویران کرنے والی اور کھا جانے والی ہوتی ہے مگر اس کے مقابل پر دوسرے شہروں اور دیہات میں جو ظالم اور مفسد ہیں ضرور ہولناک صورتیں پیدا ہوں گی ۔ تمام دنیا میں ایک قادیاں ہے جس کے لئے یہ وعدہ ہوا۔ فالحمد للہ علی ذالک۔ منه