چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 454 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 454

روحانی خزائن جلد ۲۰ لده۔ قادیان کے آریہ اور ہم افسوس آریوں پر جو ہو گئے ہیں شہر وہ دیکھ کر ہیں منکر ظلم و جفا یہی ہے معلوم کر کے سب کچھ محروم ہو گئے ہیں کیا ان نیوگیوں کا ذہن رسا یہی ہے ۵۰ اک ہیں جو پاک بندے اک ہیں دلوں کے گندے جیتیں گے صادق آخر حق کا مزا یہی ہے ان آریوں کا پیشہ ہر دم ہے بد زبانی ویدوں میں آریوں نے شاید پڑھا یہی ہے پاکوں کو پاک فطرت دیتے نہیں ہیں گالی پر ان سیہ دلوں کا شیوہ سدا یہی ہے افسوس سبّ و تو ہیں سب کا ہوا ہے پیشہ کس کو کہوں کہ اُن میں ہرزہ درا یہی ہے آخر یہ آدمی تھے پھر کیوں ہوئے درندے کیا جون ان کی بگڑی یا خود قضا یہی ہے جس آریہ کو دیکھیں تہذیب سے ہے عاری کس کس کا نام لیویں ہر سُو وبا یہی ہے لیکھو کی بد زبانی کارد ہوئی تھی اُس پر پھر بھی نہیں سمجھتے حمق و خطا یہی ہے لیکھرام اپنے کئے کا ثمرہ لیکھو نے کیسا پایا آخر خدا کے گھر میں بد کی سزا یہی ہے نبیوں کی ہتک کرنا اور گالیاں بھی دینا کتوں سا کھولنا منہ تخم فنا یہی ہے میٹھے بھی ہو کے آخر نشتر ہی ہیں چلاتے ان تیرہ باطنوں کے دل میں دعا یہی ہے جاں بھی اگر چہ دیویں ان کو بطور احسان عادت ہے ان کی کفراں رنج و عنا یہی ہے ہندو کچھ ایسے بگڑے دل پر ہیں بغض و کیس سے ہر بات میں ہے تو ہیں طرزِ ادا یہی ہے جاں بھی ہے ان پہ قرباں گردل سے ہوویں صافی پس ایسے بدکنوں کا مجھ کو گلا یہی ہے ا احوال کیا کہوں میں اس غم سے اپنے دل کا گویا کہ ان غموں کا مہماں سرا یہی ہے لیتے ہی جنم اپنا دشمن ہوا یہ فرقہ آخر کی کیا اُمیدیں جب ابتدا یہی ہے دل پھٹ گیا ہمارا تحقیر سنتے سنتے غم تو بہت ہیں دل میں پر جاں گزا یہی ہے دنیا میں گرچہ ہو گی سو قسم کی بُرائی پاکوں کی ہتک کرنا سب سے بُرا یہی ہے