چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 369 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 369

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۶۵ چشمه سیحی انسان کی فطرت میں ہے خدا تعالیٰ کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کی محبت ذاتی انسان کی محبت ذاتی میں ایک خارق عادت جوش بخشتی ہے۔ اور ان دونوں محبتوں کے ملنے سے ایک فنا کی صورت پیدا ہو کر بقا باللہ کا نور پیدا ہو جاتا ہے۔ اور یہ بات کہ دونوں محبتوں کا باہم ملنا ضروری طور پر اس نتیجہ کو پیدا کرتا ہے کہ ایسے انسان کا انجام فنافی اللہ ہو اور خاکستر کی طرح یہ وجود ہو کر ( جو حجاب ہے ) سراسر عشق الہی میں روح غرق ہو جائے اس کی مثال وہ حالت ہے کہ جب انسان پر آسمان سے صاعقہ پڑتی ہے تو اس آگ کی کشش سے انسان کے بدن کی اندرونی آگ یک دفعہ باہر آجاتی ہے تو اس کا نتیجہ جسمانی فنا ہوتا ﴿۲۲﴾ ہے پس دراصل یہ روحانی موت بھی اسی طرح دو قسم کی آگ کو چاہتی ہے۔ ایک آسمانی آگ اور ایک اندرونی آگ اور دونوں کے ملنے سے وہ فنا پیدا ہو جاتی ہے جس کے بغیر سلوک تمام نہیں ہو سکتا ۔ یہی فنا وہ چیز ہے جس پر سالکوں کا سلوک ختم ہو جاتا ہے اور جو انسانی مجاہدات کی آخری حد ہے۔ اسی فنا کے بعد فضل اور موہبت کے طور پر مرتبہ بقا کا انسان کو حاصل ہوتا ہے اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص کو یہ مرتبہ ملا انعام کے طور پر ملا یعنی محض فضل سے نہ کسی عمل کا اجر کا اجر اور یہ عشق الہی کا آخری نتیجہ ہے جس سے ہمیشہ ، ہمیشہ کی زندگی حاصل ہوتی ہے اور موت سے نجات ہوتی ہے۔ ہمیشہ کی زندگی بجز خدا تعالیٰ کے کسی کا حق نہیں۔ وہی انسان چونکہ بوجہ اپنی بشریت کی کمزوری کے ایسے اعمال بجا نہیں لاسکتا جن سے بے انتہا اور غیر محدود نعمتوں کا حقدار ہو جائے۔ اور بغیر حصول ان نعمتوں کے سچی اور حقیقی نجات پاہی نہیں سکتا اس لئے انسان جب اپنی قوت اور طاقت کی حد تک مجاہدہ اور جپ تپ کر لیتا ہے تب عنایت الہی اس کی کمزوری پر رحم کر کے محض فضل سے اس کی دستگیری کرتی ہے اور مفت کے طور پر وصالِ الہی کا وہ انعام اس کو دیتی ہے جو پہلے اس سے راستبازوں کو دیا گیا تھا۔ منہ ا الفاتحة : 2