چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 301

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۹۷ لیکچر لدھیانہ کہ کہہ دو اللہ تعالیٰ اس امر سے پاک ہے کہ وہ خلاف وعدہ کرے جبکہ اُس نے بشر کے لئے آسمان پر مع جسم کے جانا حرام کر دیا ہے۔ اگر میں جاؤں تو جھوٹا ٹھہروں گا ۔ اب اگر تمہارا یہ عقیدہ صحیح ہے کہ مسیح آسمان پر چلا گیا ہے اور کوئی بالمقابل پادری یہ آیت پیش کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرے تو تم اس کا کیا جواب دے سکتے ہو؟ پس ایسی باتوں کے ماننے سے کیا فائدہ جن کا کوئی اصل قرآن مجید میں موجود نہیں ۔ اس طرح پر تم اسلام کو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنے والے ٹھہرو گے۔ پھر پہلی کتابوں میں بھی تو کوئی نظیر موجود نہیں اور ان کتابوں سے اجتہاد کرنا حرام نہیں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، اور پھر فرمایا كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ ۚ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَبِ اور ایسا ہی فرمایا يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءهُمُ ہے۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ثبوت کے لئے ان کو پیش کرتا ہے تو ہمارا ان سے اجتہاد کرنا کیوں حرام ہو گیا۔ اب انہیں کتابوں میں ملا کی نبی کی ایک کتاب ہے جو بائبل میں موجود ہے ۔ اس میں مسیح سے پہلے ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کا وعدہ کیا گیا ۔ آخر جب مسیح ابن مریم آئے تو حضرت مسیح سے الیاس کے دوبارہ آنے کا سوال ملا کی نبی کی اس پیشگوئی کے موافق کیا گیا مگر حضرت مسیح نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ آنے والا یوحنا کے رنگ میں آچکا۔ اب یہ فیصلہ حضرت عیسی ہی کی عدالت سے ہو چکا ہے کہ دوبارہ آنے والے سے کیا مراد ہوتی ہے۔ وہاں بیٹی کا نام مثیل الیاس نہیں رکھا بلکہ انہیں ہی ایلیا قرار دیا گیا ۔ اب یہ قیاس بھی میرے ساتھ ہے۔ میں تو نظیر پیش کرتا ہوں مگر میرے منکر کوئی نظیر پیش نہیں کرتے ۔ بعض لوگ جب اس مقام پر عاجز آجاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ کتابیں محرف مبدل ہیں مگر افسوس ہے یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اس سے سند لیتے رہے اور اکثر اکابر نے تحریف معنوی مراد کی ہے۔ بخاری نے بھی یہی الاحقاف : 11 الرعد : ۴۴ ۳ البقرة : ۱۴۷