چشمۂ مسیحی — Page 282
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۷۸ لیکچر لدھیانہ نبی کی معرفت ظاہر کر دیا جاتا تو وہ پیشگوئی ہوتی ۔ اگر پیشگوئی نہیں مل سکتی تو پھر ارادہ الہی بھی صدقہ خیرات سے نہیں مل سکتا لیکن یہ بالکل غلط ہے۔ چونکہ وعید کی پیشگوئیاں ٹل جاتی ہیں اس لئے فرمایا: إِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ - اب اللہ تعالیٰ خود گواہی دیتا ہے کہ بعض پیشگوئیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی ٹل گئیں ۔ اگر میری کسی پیشگوئی پر ایسا اعتراض کیا جاتا ہے تو مجھے اس کا جواب دو۔ اگر اس امر میں میری تکذیب کرو گے تو میری نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی تکذیب کرنے والے ٹھہر وگے۔ میں بڑے وثوق سے کہتا ہوں کہ یہ کل اہل سنت جماعت اور کل دنیا کا مسلم مسئلہ ہے کہ تضرع سے عذاب کا وعدہ مل جایا کرتا ہے۔ کیا حضرت یونس علیہ السلام کی نظیر بھی تمہیں بھول گئی ہے؟ حضرت یونس کی قوم سے جو عذاب ٹل گیا تھا اس کی وجہ کیا تھی ؟ در منثور وغیرہ کو دیکھو اور بائبل میں ٹوئہ نبی کی کتاب موجود ہے۔ اس عذاب کا قطعی وعدہ تھا مگر حضرت یونس کی قوم نے عذاب کے آثار دیکھ کر توبہ کی اور اس کی طرف رجوع کیا۔ خدا تعالیٰ نے اس کو بخش دیا اور عذاب ٹل گیا ۔ اُدھر حضرت یونس یوم مقررہ پر عذاب کے منتظر تھے۔ لوگوں سے خبریں پوچھتے تھے۔ ایک زمیندار سے پوچھا کہ نینوں کا کیا حال ہے؟ اُس نے کہا کہ اچھا حال ہے۔ تو حضرت یونس پر بہت غم طاری ہوا اور انہوں نے کہا۔ لن ارجع الى قومی کذابا یعنی میں اپنی قوم کی طرف کذاب کہلا کر نہیں جاؤں گا۔ اب اس نظیر کے ہوتے ہوئے اور قرآن شریف کی زبردست شہادت کی موجودگی میں میری کسی ایسی پیشگوئی پر جو پہلے ہی سے شرطی تھی اعتراض کرنا تقوی کے خلاف ہے۔ متقی کی یہ شان نہیں کہ بغیر سوچے سمجھے منہ سے بات نکال دے اور تکذیب کو آمادہ ہو جاوے۔ حضرت یونس کا قصہ نہایت دردناک اور عبرت بخش ہے۔ اور وہ کتابوں میں لکھا ہوا ہے اُسے غور سے پڑھو۔ یہاں تک کہ وہ دریا میں گرائے گئے ۔ اور مچھلی کے پیٹ میں گئے ۔ تب تو بہ منظور ہوئی ۔ یہ سزا اور عتاب حضرت یونس پر کیوں ہوا؟ اس لئے کہ انہوں نے خدا کو قادر نہ سمجھا کہ وہ وعید کو ٹال دیتا ہے۔ پھر تم لوگ کیوں میرے متعلق جلدی کرتے ہو؟ اور میری المؤمن : ٢٩