چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 232 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 232

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۳۰ لیکچر سیالکوٹ ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک راہ کھلی رکھی جاوے اور دوسری بند کی جاوے۔ یہ طریق کسی منطق سے سدھ نہیں ہو سکتا ۔ پھر اس غلطی نے ایک اور غلطی میں آریہ صاحبوں کو پھنسا دیا ہے جس میں اُن کا خود نقصان ہے جیسا کہ پہلی غلطی میں پرمیشر کا نقصان ہے۔ اور وہ یہ کہ آریہ صاحبوں نے مکتی کو میعادی ٹھہرا دیا ہے اور تناسخ ہمیشہ کے لئے گلے کاہار قرار دیا گیا ہے جس سے کبھی نجات نہیں ۔ یہ بخل اور تنگ دلی خدائے رحیم و کریم کی طرف منسوب کرنا عقل سلیم تجویز نہیں کر سکتی۔ جس ۳۶ حالت میں پرمیشر کو ابدی نجات دینے پر میشر کو ابدی نجات دینے کی قدرت تھی اور وہ سرب شکتی مان تھا تو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ ایسا نخل اُس نے کیوں کیا کہ اپنی قدرت کے فیض سے بندوں کو محروم رکھا اور پھر یہ اعتراض اور بھی مضبوط ہوتا ہے جبکہ دیکھا جاتا ہے کہ جن روحوں کو ایک طول طویل عذاب میں ڈالا ہے اور ہمیشہ کے لئے جو نیں بھگتنے کی مصیبت ان کی قسمت میں لکھ دی ہے وہ روحیں پرمیشور کی مخلوق بھی نہیں ہیں۔ اس کا جواب آریہ صاحبوں کی طرف سے یہ سنا گیا ہے کہ پر میشور ہمیشہ کی مکتی دینے پر قادر تو تھا۔ سرب شکتی مان جو ہوا لیکن میعادی مکتی اس وجہ سے تجویز کی گئی کہ تا سلسلہ تناسخ کا ٹوٹ نہ جائے کیونکہ جس حالت میں روحیں ایک تعداد مقررہ کے اندر ہیں اور اس سے زیادہ نہیں ہو سکتیں۔ پس ایسی صورت میں اگر دائمی مکتی ہوتی تو جونوں کا سلسلہ قائم نہیں رہ سکتا تھا کیونکہ جو روح نجات ابدی پا کر مکتی خانہ میں گئی وہ تو گویا پر میشور کے ہاتھ سے گئی اور اس روز مرہ کے خرچ کا آخری نتیجہ ضرور یہ ہونا تھا کہ ایک دن ایک روح بھی جونوں میں ڈالنے کے لئے لئے ہے پر میشور کے ہاتھ میں نہ رہتی اور کسی دن یہ شغل تمام ہو کر پر میشور معطل ہو کر بیٹھ جاتا۔ پس ان مجبوریوں کی وجہ سے پرمیشور نے یہ انتظام کیا کہ مکتی کو ایک حد تک محدود رکھا۔ اور پھر اسی جگہ ایک اور اعتراض ہوتا تھا کہ پرمیشور بے گناہوں کو جو ایک دفعہ مکتی پاچکے اور گناہوں سے صاف ہو چکے پھر مکتی خانہ سے کیوں بار بار نکالتا ہے۔ اس اعتراض کو پرمیشر نے اس طرح