چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 216

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۱۴ لیکچر سیالکوٹ میں سے حضرت عیسی ایسے خلیفے تھے جنہوں نے نہ تلوار اُٹھائی اور نہ جہاد کیا۔ سو اس امت کو بھی اسی رنگ کا مسیح موعود دیا گیا ۔ دیکھو آیت وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنَّا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفُسِقُونَ ۔ اس آیت میں فقرہ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ قابلِ غور ہے کیونکہ اس سے سمجھا جاتا ہے کہ محمدی خلافت کا سلسلہ موسوی خلافت کے ۱۵ سلسلہ سے مشابہ ہے اور چونکہ موسوی خلافت کا انجام ایسے نبی پر ہوا یعنی حضرت عیسی پر جو حضرت موسی سے چودھویں صدی کے سر پر آیا اور نیز کوئی جنگ اور جہاد نہیں کیا اس لئے ضروری تھا کہ آخری خلیفہ سلسلہ محمدی کا بھی اِسی شان کا ہو ۔ ہو۔ اسی طرح احادیث صحیحہ میں بھی ذکر تھا کہ آخری زمانہ میں اکثر حصہ مسلمانوں کا یہودیوں سے مشابہت پیدا کر لے گا اور سورۃ فاتحہ میں بھی اسی کی طرف اشارہ تھا کیونکہ اس میں یہ دعا سکھلائی گئی ہے کہ اے خدا ہمیں ا۔ ایسے یہودی بننے سے محفوظ رکھ جو حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت میں تھے اور اُن کے مخالف تھے جن پر خدا تعالیٰ کا غضب اسی دنیا میں نازل ہوا تھا اور یہ عادت اللہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ کسی قوم کو کوئی حکم دیتا ہے یا ان کو کوئی دعا سکھلاتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ بعض لوگ ان میں سے اس گناہ کے مرتکب ہوں گے جس سے ان کو منع کیا گیا ہے۔ پس چونکہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ۔ سے مراد وہ یہودی ہیں جو ملت موسوی کے آخری زمانہ میں یعنی حضرت مسیح کے وقت میں بباعث نہ قبول کرنے حضرت مسیح کے مورد غضب الہی ہوئے تھے۔ اس لئے اس آیت میں سنت مذکورہ کے لحاظ سے یہ پیشگوئی ہے کہ اُمت محمدیہ کے آخری زمانہ میں بھی اسی اُمت میں سے مسیح موعود ظاہر ہوگا اور بعض مسلمان اس کی مخالفت النور : ۲۵۶ الفاتحة : ۷