چشمۂ مسیحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 597

چشمۂ مسیحی — Page 198

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۹۶ لیکچر لاہور مزاحمت کرنے والوں کو نا مرا د رکھوں گا ۔ پس ایک صاف دل لے کر سوچو کہ یہ کس قدر نمایاں تائید ہے اور کیسا کھلا کھلا نشان ہے۔ کیا آسمان کے نیچے ایسی قدرت کسی انسان کو ہے یا کسی شیطان کو کہ ایک گمنامی کے وقت میں ایسی خبر دے اور وہ پوری ہو جاوے اور ہزاروں دشمن اُٹھیں مگر کوئی اس خبر کو روک نہ سکے۔ پھر چوتھی یہ شرط تھی کہ مخالفوں نے جو اعتراض اٹھائے اُن اعتراضات کا پورا پورا جواب دیا گیا یا نہیں ۔ یہ شرط بھی صفائی سے طے ہو چکی کیونکہ مخالفوں کا ایک بڑا اعتراض یہ تھا کہ مسیح موعود حضرت عیسی علیہ السلام ہیں وہی دوبارہ دنیا میں آئیں گے پس ان کو جواب دیا گیا کہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ حضرت عیسی فوت ہو چکے ہیں اور پھر دوبارہ دنیا میں ہرگز نہیں آئیں گے جیسا کہ اللہ تعالی انہیں کی زبان سے فرماتا ہے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۔ پہلی آیتوں کو ساتھ ملا کر ترجمہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ قیامت کو حضرت عیسی سے پوچھے گا کہ کیا تو نے ہی یہ تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے ماننا اور ہماری پرستش کرنا پرستش کرنا اور وہ جواب دیں گے کہ اے میرے خدا! اگر میں نے ایسا کہا ہے تو تجھے معلوم ہوگا کیونکہ تو عالم الغیب ہے۔ میں نے تو وہی باتیں اُن کو کہیں جو تو نے مجھے فرمائیں یعنی یہ کہ خدا کو وحدہ لاشریک اور مجھے اس کا رسول مانو۔ میں اُس وقت تک اُن کے حالات کا علم رکھتا تھا جب تک کہ میں اُن میں تھا۔ پھر جب تو نے مجھے وفات دیدی تو تو اُن پر گواہ تھا۔ مجھے کیا خبر ہے کہ میرے بعد انہوں نے کیا کیا۔ اب ان آیات سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام یہ جواب دیں گے کہ جب تک میں زندہ تھا عیسائی لوگ بگڑے نہیں تھے اور جب میں مر گیا تو مجھے خبر نہیں کہ ان کا کیا حال ہوا۔ پس اگر مان لیا جائے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اب تک زندہ ہیں تو ساتھ ہی ماننا پڑے گا کہ عیسائی بھی اب تک بگڑے نہیں اور سچے مذہب پر قائم ہیں ۔ پھر ماسوا اس کے اس آیت میں حضرت عیسی علیہ السلام اپنی وفات کے بعد اپنی بے خبری ظاہر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے میرے خدا! جب تو نے مجھے وفات دے دی اُس وقت سے مجھے اپنی امت کا کچھ حال معلوم نہیں۔ پس اگر یہ بات صحیح مانی جائے کہ وہ قیامت سے پہلے المائدة : ١١٨