چشمۂ مسیحی — Page 176
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۷۴ لیکچر لاہور ابھی وہ وقت نہیں کہ تم ایسا کرو اور اگر ایسا کرو گے تو ایک زہرناک بیج قوم میں پھیلاؤ گے ۔ یہ زمانہ ایک ایسا نازک زمانہ ہے کہ اگر کسی زمانہ میں پردہ کی رسم نہ ہوتی تو اس زمانہ میں ضرور ہونی چاہیے تھی کیونکہ کل جگ ہے اور زمین پر بدی اور فسق و فجور اور شراب خواری کا زور ہے اور دلوں میں دہر یہ پن کے خیالات پھیل رہے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کے احکام کی دلوں میں سے عظمت اُٹھ گئی ہے۔ زبانوں پر سب کچھ ہے اور لیکچر بھی منطق اور فلسفہ سے بھرے ہوئے ہیں مگر دل روحانیت سے خالی ہیں۔ ایسے وقت میں کب مناسب ہے کہ اپنی غریب بکریوں کو بھیڑیوں کے بنوں میں چھوڑ دیا جائے۔ اے دوستو ! اب طاعون سر پر ہے اور جہاں تک مجھے خدا تعالیٰ سے علم دیا گیا ہے۔ ابھی بہت سا حصہ اس کا باقی ہے۔ بہت خطرناک دن ہیں معلوم نہیں کہ آئندہ مئی تک کون زندہ ہوگا اور کون مر جائے گا اور کس گھر پر بلا آئے گی اور کس کو بچایا جائے گا۔ پس اُٹھو! اور توبہ کرو اور اپنے مالک کو نیک کاموں سے راضی کرو۔ اور یاد رکھو کہ اعتقادی غلطیوں کی سزا تو مرنے کے بعد ہے اور ہند و یا عیسائی یا مسلمان ہونے کا فیصلہ تو قیامت کے دن ہو گا لیکن جو شخص ہے۔ تب وہ خدا ظلم اور تعدی اور فسق و فجور میں حد ۔ احد سے بڑھتا ہے اس کو اسی جگہ سزا دی جاتی ہے۔ یہ کی سزا سے کسی طرح بھاگ نہیں سکتا۔ سو اپنے خدا کو جلد راضی کر لو اور قبل اس کے کہ وہ دن آوے جو خوفناک دن ہے یعنی طاعون کے زور کا دن جس کی نبیوں نے خبر دی ہے ۔ تم خدا سے صلح کرلو۔ وہ نہایت درجہ کریم ہے ایک دم کی گداز کرنے والی تو بہ سے ستر برس کے گناہ بخش سکتا ہے۔ اور یہ مت کہو کہ تو بہ منظور نہیں ہوتی ۔ یا د رکھو کہ تم اپنے اعمال سے کبھی بچ نہیں ہمیشہ فضل بچاتا ہے نہ اعمال ۔ اے خدائے کریم و رحیم ! ہم سب پر فضل کر کہ ہم تیرے سکتے۔ ہمیشہ بندے اور تیرے آستانہ پر گرے ہیں۔ آمین