چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 76 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 76

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۷۶ چشمه معرفت ۲۸ محدود تھے دوسری قوم سے اُن کو کچھ تعلق اور واسطہ نہ تھا مگر سب کے بعد قرآن شریف آیا جو ایک عالمگیر کتاب ہے اور کسی خاص قوم کے لئے نہیں بلکہ تمام قوموں کے لئے ہے ایسا ہی قرآن شریف ایک ایسی اُمت کے لئے آیا جو آہستہ آہستہ ایک ہی قوم بننا چاہتی تھی سواب زمانہ کے لئے ایسے سامان میسر آگئے ہیں جو مختلف قوموں کو وحدت کا رنگ بخشتے جاتے ہیں۔ باہمی ملاقات جو اصل جڑھ ایک قوم بننے کی ہے ایسی سہل ہوگئی ہے کہ برسوں کی راہ چند دنوں میں طے ہو سکتی ہے اور پیغام رسانی کے لئے وہ سبیلیں پیدا ہوگئی ہیں کہ جو ایک برس میں بھی کسی دور دراز ملک کی خبر نہیں آسکتی تھی وہ اب ایک ساعت میں آسکتی ہے۔ زمانہ میں ایک ایسا انقلاب عظیم پیدا ہو رہا ہے اور تمدنی دریا کی دھار نے ایک ایسی طرف رخ کر لیا ہے جس سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ اب خدا تعالیٰ کا یہی ارادہ ہے کہ تمام قوموں کو جو دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں ایک قوم بنادے اور ہزار ہا برسوں کے بچھڑے ہوؤں کو پھر باہم ملا دے اور یہ خبر قرآن شریف میں موجود ہے اور قرآن شریف نے ہی کھلے طور پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ دنیا کی تمام قوموں کے لئے آیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا لے یعنی تمام لوگوں کو کہہ دے کہ میں تم سب کے لئے رسول ہو کر آیا ہوں اور پھر فرماتا ہے وَمَا أَرْسَلْتُكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ کے یعنی میں نے تمام عالموں کے لئے تجھے رحمت کر کے بھیجا ہے اور پھر فرماتا ہے لِيَكُونَ لِلْعَلَمِينَ نَذِیرًا کے یعنی ہم نے اس لئے بھیجا ہے کہ تمام دنیا کو ڈراوے لیکن ین ہم ہم بڑے بڑے زور سے سے کہتے ۔ ہیں کہ قرآن شریف سے پہلے دنیا کی کسی الہامی کتاب نے یہ دعوی نہیں کیا بلکہ ہر ایک نے اپنی رسالت کو اپنی قوم تک ہی محدود رکھا یہاں تک کہ جس نبی کو عیسائیوں نے خدا قرار دیا اُس کے منہ سے بھی یہی نکلا کہ میں اسرائیل کی بھیڑوں کے سوا اور کسی کی طرف نہیں بھیجا گیا اور زمانہ کے حالات نے بھی گواہی دی کہ قرآن شریف کا یہ دعوی تبلیغ عام کا عین موقعہ پر ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے ا الاعراف : ۱۵۹ ۳ الانبياء : ۱۰۸ ۳ الفرقان :