چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 57

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۵۷ چشمه معرفت ہوتا ہے اور جب کہ یہ بات ہے کہ کہیں کا پرمیشر اور کہیں کی روحیں نہ تعلق نہ واسطہ نہ جوڑ نہ رشتہ ۴۹ نہ اُس کے پیدا کردہ بندے تا بباعث اس تعلق کے محبت اور رحم جوش مارے اور یاد آوے کہ آخر یہ بے چارے میرے پیدا کردہ ہیں تو پھر پر میشر ان پر کیوں رحم کرے وہ لگتے کیا ہیں ۔ خیال کرنا چاہیے کہ اس سختی اور غضب کی بھی کوئی حد ہے کہ بموجب اصول آریہ سماج کے اس دنیا کو کروڑ ہا برس گزر گئے مگر اب تک پر میشر نے حیوانات اور کیڑوں کو انسان بنانے میں کوئی قابل قدر کار روائی نہیں کی ۔ تمام سطح زمین کا حیوانات اور کیڑوں مکوڑوں سے بھرا ہوا ہے اور پھر جب دیکھو کہ اُن کے مقابل پر انسان کتنے ہیں تو اتنے بھی معلوم نہیں ہوتے کہ جیسے سمندر میں سے ایک قطرہ بلکہ دیکھا جاتا ہے کہ انسانوں کی توالد تناسل بھی بہت ہی کم ہے اس کے مقابل پر ایک رات میں اس قدر نئے کیڑے پیدا ہو سکتے ہیں کہ ایک لاکھ برس میں اس قدر انسان پیدا نہیں ہو سکتے ۔ نہ معلوم پر میشر کو کہاں کا انسان سے یہ بغض ہے کہ اُس کے بارے میں نہایت سخت قواعد رکھے ہیں اور انجام کار جو مکتی دی جاتی ہے وہ بھی دراصل ماتم کی جگہ ہے۔ خیر یہ تو پر میشر کا حکم معلوم ہی ہو چکا ہے مگر ایک اور بے انصافی یہ ہے کہ پرمیشر سب کو ایک ہی مقررہ مدت گذرنے کے بعد مکتی خانہ سے باہر نکال دیتا ہے لیکن جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں باہر نکالنے کے وقت بھی نا انصافی سے کام لیتا ہے اور با وجود اختلاف اعمال کے جو اختلاف زمانہ اجر کا موجب ہونا چاہیے تھا سب کو ایک ہی دفعہ ایک ہی وقت میں مکتی خانہ سے باہر دفع کرتا ہے اور پھر بے انصافی یہ کہ گناہ تو صرف اسی قدر ہیں جو دید میں لکھے گئے ہیں مگر ان معدود اور محدود گناہوں کے عوض میں جو دید کے ایک ورق پر آسکتے ہیں تمام سطح زمین کا کروڑہا جانوروں اور بے شمار کیڑوں مکوڑوں سے بھر رکھا ہے اور وید کی تعلیم تناسخ یعنی جونوں کے متعلق یہ ہے کہ ہر ایک گناہ ایک خاص جون کو چاہتا ہے کیونکہ پر میشر تو گناہوں کی سزا میں اپنے ارادہ کا کچھ دخل ہی نہیں دیتا اور ہر ایک گنہگار