چشمہٴ معرفت — Page 51
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۵۱ چشمه معرفت که انسان ضعیف البنیان بوجہ اپنی فطرتی کمزرویوں کے گناہ سے محفوظ نہیں رہ سکتا اور ۴۳ قدم قدم پر ٹھو کر کھانا اس کی فطرت کا خاصہ ہے مگر وید نے انسان کی حالت پر رحم کر کے کوئی نجات کا طریق پیش نہیں کیا بلکہ وید کو صرف ایک ہی نسخہ یاد ہے جو سراسر غضب اور کینہ سے بھرا ہوا ہے اور وہ یہ کہ ایک ذرہ سے گنہ کے لئے بھی ایک لمبا اور نا پیدا کنار سلسلہ جونوں کا تیار کر رکھا ہے حالانکہ گنہگار اس وجہ سے بھی قابل رحم ہے کہ اس کی کمزور قوتیں جن سے گناہ صادر ہوتا ہے اس کی طرف سے نہیں بلکہ اُسی خدا نے پیدا کی ہیں ۔ پس اس حالت میں عاجز بندے اس بات کے مستحق تھے کہ اس مجبوری کا بھی ان کو فائدہ دیا جاتا مگر بقول آریہ صاحبان پرمیشر نے ایسا نہیں کیا اور سزا دینے کے وقت یہ امر ملحوظ نہیں رکھا کہ آخر گناہ کے ارتکاب میں اس کا بھی تو کچھ دخل ہے اور وید نے مکتی دینے کے بارہ میں یہ شرط رکھی ہے کہ تب مکتی ملے گی کہ جب انسان گناہ سے بالکل پاک ہو جاوے مگر اس شرط کو جب قانون قدرت کے معیار کے ساتھ آزمایا جاوے تو ثابت ہوگا کہ اس شرط سے عہدہ برآ ہونا بالکل انسان کے لئے غیر ممکن ہے کیونکہ جب تک انسان خدا تعالیٰ کے تمام حقوق ادا نہ کر لے تب تک نہیں کہہ سکتا کہ اُس نے فرمانبرداری کے تمام دقائق کو ادا کر دیا ہے اور ظاہر ہے کہ قانون قدرت صاف یہ شہادت دے رہا ہے اور انسان کا صحیفہ فطرت اس شہادت پر اپنے دستخط کر رہا ہے اور بزبانِ حال بیان کر رہا ہے کہ انسان کسی مرتبہ ترقی اور کمال میں اس قصور سے مبرا نہیں ہو سکتا کہ وہ بمقابل خدا کی نعمتوں اور اس کے حقوق کے شکر نہیں کر سکا اور اس کے احکام کی کامل پیروی اور پوری بجا آوری میں بہت قاصر رہا۔ پس اگر انسان کی نجات صرف اسی صورت میں ہے کہ جیسا کہ چاہیے دنیا کے تفاوت مراتب اور دکھ سکھ کی حالت کو دیکھ کر اس کو اواگون یعنی تناسخ کی دلیل بتانا سراسر نادانی ہے کیونکہ جب دوسرا عالم آنے والا ہے تو دکھ پانے والے کو وہاں اس کے عوض میں سکھ مل جائے گا ۔ ایسے بھی تو لوگ ہیں کہ جپ تپ سے اپنے لئے آپ ہی دکھ پیدا کرتے ہیں تا دوسرے عالم میں سکھ اٹھاویں۔منہ