چشمہٴ معرفت — Page 41
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۱ چشمه معرفت اور پھر قدامت کا دعوی کریں اور بغیر ایسے فیصلہ کے جو ناطق ہو تمہیں کیا معلوم ہے کہ قدامت ۳۳) کے دعوی میں تم سچے ہو یا پارسی سچے ہیں۔ علاوہ اس کے خدا کا کلام صرف ابتدائے زمانہ کے لئے نہیں ہوتا بلکہ وہ تو حاجت کے وقت پر انسانی نسل کے درست کرنے کے لئے آتا ہے پس یہ عذر بدتر از گناہ ہے اور ہرگز قبول کرنے کے لائق نہیں بلکہ ہم کہتے ہیں کہ اور تو اور ان رشیوں کا ایمان بھی خدا کے وجود پر محض شکی اور ظنی درجہ پر ہوگا جن پر خدا کی ہستی اور اس کی صفات کے بارے میں کوئی یقینی حقیقت نہیں کھولی گئی اور محض قصے ان کے آگے رکھ دیئے گئے کہ پرمیشر عالم الغیب ہے اور پر میشر سرب شکتی مان ہے اور پرمیشر دیالو ہے۔ ایک دانشمند جو سچی معرفت کا پیاسا ہے سمجھ سکتا ہے کہ بھلا ان قصوں سے کیا بن سکتا ہے؟ پھر مضمون خوان صاحب نے یہ سنایا کہ ” وہ پر میشر سب پر حاکم انادی پر جا کو اپنی سناتن وڈیا سے گیان دینے والا ہے مگر اس کی وجہ کوئی پیش نہیں کی کہ کیوں سب پر حاکم ہے کیا کسی جابرانہ قبضہ سے یہ حکومت اُس کو میسر آئی ہے یا فتح یاب بادشاہ کی طرح روحوں کی فوج پر اُس نے فتح پا کر اپنا مطیع اور منقاد اُن کو بنا لیا ہے کیونکہ وہ حکومت تو اُس کو میسر نہیں جو پیدا کنندہ کو اپنی پیدا کردہ چیزوں پر ہوتی ہے کوئی اور وجہ حکومت ہوگی اور جب تک اُس کی حکومت کی کوئی وجہ بیان نہ کی جائے تب تک یہ دعویٰ کہ پر میشر اپنی پر جایا رعیت پر حاکم ہے فضول اور بے معنی ہے۔ باقی رہا یہ کہ پر میشر اپنی سناتن وڈیا سے گیان دینے والا ہے اگر گیان سے یہی مراد ہے کہ وہ کسی روح یا روح کی کسی قوت کا پیدا کرنے والا نہیں اور سب روحیں خود بخود ہیں اور ایسا ہی ہر ایک ذرہ اجسام کا اور اُن کی قوتیں خود بخود ہیں اور پر میشر کو نہ کبھی طاقت ہوئی اور نہ ہو گی کہ وہ ایک روح یا ایک ذرہ پیدا کر سکے تو خدا نہ کرے کہ ایسا گیان کسی ایمان دار کو نصیب ہو بلکہ ایسی باتیں تو وہ کرے گا جو لوگوں کو دہریہ بنانے کے لئے کوشش کرتا ہے اور اگر یہ خیال کیا جائے کہ پر میشر نے وید میں نیک عملوں کی ہدایت