چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 38

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۸ چشمه معرفت ۳۰ موافق آیا ہن کے منتر کی رو سے شدھ کئے جاتے ہیں اور پھر بعد اس کے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اب پر میشر ان کے اندر داخل ہو گیا ہے مگر آریوں کے اصول کے موافق پر میشر ہر ایک چیز کے اندر ہے خواہ وہ چیز پاک ہے یا نا پاک اور کسی منتر کی ضرورت نہیں ۔ پھر اس جگہ یہ بھی اعتراض ہوتا ہے کہ اگر پر میشر ہر ایک چیز میں پورے طور پر یعنی تمام و کمال اندر ہے تو اس سے تعدد لازم آتا ہے یعنی ایک پر میشر نہیں بلکہ کروڑہا پر میشر ہو گئے اور اگر پورے طور پر کسی کے اندر نہیں تو اس سے پر میشر ٹکڑے ٹکڑے ہوتا ہے اور دونوں امر باطل ۔ پھر اسی مضمون میں یہ فقرہ ہے کہ " پر میشر عالم الغیب ہے ہم کہتے ہیں کہ بلا شبہ خدا تعالیٰ عالم الغیب تو ہے مگر خدا کی کتاب کا یہ منصب نہیں ہے کہ محض ایک قصہ گو کی طرح خدا تعالیٰ کو عالم الغیب قرار دے بلکہ اس کا یہ منصب ہے کہ خدا کے عالم الغیب ہونے کے لئے اُس کا کوئی نمونہ پیش کر کے ثابت کرے یعنی ایسے ایسے آئندہ کے واقعات پیشگوئی کے طور پر بیان فرمادے جن سے یقین ہو جاوے کہ حقیقت میں خدا عالم الغیب ہے تا خدا تعالیٰ کی کتاب پر ایمان لا کرظنی ایمان یقین کے درجہ تک پہنچ جائے ۔ کیونکہ ظنی طور پر تو دُنیا کے اکثر لوگ خدا کے وجود کے قائل ہیں اور اُس کو عالم الغیب بھی خیال کرتے ہیں تو پھر اُن کے علم اور اس علم میں جو وید پیش کرتا ہے فرق کیا ہوا۔ پس اگر وید میں یقینی علم کی تعلیم دینے کے لئے کوئی پیشگوئی بیان کی گئی ہے اور وہ پوری ہو چکی ہے تو اس شرقی کو پیش کرنا چاہیے ورنہ وید کے بیان اور ایک گنوار نادان کے بیان میں کچھ فرق نہیں۔ اور یہ ضروری امر ہے کہ جو کتاب خدا کی کتاب کہلاتی ہے وہ خدا کا عالم الغیب ہونا صرف زبان سے بیان نہ کرے بلکہ اُس کا ثبوت بھی دے کیونکہ بغیر ثبوت کے نرایہ بیان کہ خدا عالم الغیب ہے انسان کے ایمان کو کوئی ترقی نہیں دے سکتا اور ایسی کتاب کی نسبت شبہ ہو سکتا ہے کہ اُس نے صرف سنی سنائی باتیں لکھی ہیں ۔ اسی وجہ سے قرآن شریف خدا تعالیٰ کی ایسی صفات کے بیان کرنے کے وقت صرف قصہ گو کی طرح