چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 35

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۵ چشمه معرفت پر یہ حق ٹھیراتے ہیں کہ اُن کی مدد کریں ورنہ دوسرا شخص اُس پر کوئی حق نہیں ٹھہر سکتا۔ مبارک وہ جو اپنی کمزوریوں کا اقرار کر کے خدا سے رحم چاہتا ہے اور نہایت شوخ اور شریر اور بد بخت وہ شخص ہے جو اپنے اعمال کو اپنی طاقتوں کا ثمرہ سمجھ کر خدا سے انصاف چاہتا ہے اور ابھی میں بیان کر چکا ہوں کہ آریہ صاحبوں نے جو اپنے اعمال کے مقابل پر خدا کا نام منصف رکھا ہے ۔ یہ غلطی محض اس وجہ سے واقع ہوئی ہے کہ اُنہوں نے اپنے ارواح اور اُن کی تمام قوتوں کو اور ایسا ہی اپنے اجسام اور اُن کی طاقتوں کو خدا کی طرح قدیم اور انا دی اور غیر مخلوق سمجھ لیا ہے جو پرمیشر کی طرف سے نہیں بلکہ خود بخود ہیں ۔ اور اگر وہ مخلوق کی نسبت قدامت نوعی کے قائل ہوتے نہ قدامت شخصی کے تو اس کفر میں نہ پڑتے مگر انہوں نے قدامت شخصی کا اعتقاد رکھ کر یعنی یہ کہہ کر کہ ارواح اور ذرات اجسام سب انادی ہیں مخلوق نہیں ہیں ایک بھاری کفر اپنے لئے سہیڑ لیا۔ غرض وہ لوگ قدامت شخصی کے قائل ہوکر پرمیشر کے مقابل پر اُس کے شریکوں کی طرح اپنے تئیں تصور کرتے ہیں یا مثلاً اس طرح تصور کرتے ہیں جیسا کہ رعایا کو اپنے بادشاہ کے مقابل پر خیال ہوتا ہے اور جیسا کہ رعایا اپنے بادشاہ سے اپنے حقوق طلب کر سکتی ہے اور اگر کوئی ظالم بادشاہ اُن کے حقوق کو پامال کرنا چاہے تو اپنے حقوق پیش کر کے اُس سے انصاف چاہتی ہے یا نا چار بغاوت کے لئے سر اٹھاتی ہے اور آر یہ صاحبوں کے اصول کے رو سے یہ بات سچ بھی ٹھہرتی ہے کیونکہ جس حالت میں تمام روحیں اور جسموں کے تمام ذرات پر میشر کے پیدا کردہ نہیں ہیں تو کیوں نہ اُس سے اپنے حقوقِ خدمت طلب کئے جائیں اور کیوں نہ اُس کو انصاف دینے کے لئے مجبور کیا جائے اس حالت میں وہ ہوتا کون ہے جو حقوق دبا کر بیٹھا رہے بلکہ اگر وہ واجب حقوق کو ادا نہ کرے تو اگر آسمان کے نیچے اُس کے اُوپر کوئی دوسری عدالت ہوتی تو