چشمہٴ معرفت — Page 439
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۳۹ پیغام صلح بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اے میرے قادر خدا اے میرے پیارے رہنما تو ہمیں وہ راہ دکھا جس سے تجھے پاتے ہیں اہل صدق و صفا۔ اور ہمیں ان راہوں سے بچا جن کا مدعا صرف شہوات ہیں یا کینہ یا بغض یا دنیا کی حرص و ہوا ۔ اما بعد اسے سامعین ہم سب کیا مسلمان اور کیا ہند و با وجود صد ہا اختلافات کے اُس خدا پر ایمان لانے میں شریک ہیں جو دنیا کا خالق اور مالک ہے اور ایسا ہی ہم سب انسان کے نام میں بھی شراکت رکھتے ہیں یعنی ہم سب انسان کہلاتے ہیں اور ایسا ہی بباعث ایک ہی ملک کے باشندہ ہونے کے ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں ۔ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ صفائے سینہ اور نیک نیتی کے ساتھ ایک دوسرے کے رفیق بن جائیں اور دین و دنیا کی مشکلات میں ایک دوسرے کی ہمدردی کریں اور ایسی ہمدردی کریں کہ گویا ایک دوسرے کے اعضاء بن جائیں ۔ تعد اے ہموطنو !! وہ دین دین نہیں ہے جس میں عام ہمدردی کی تعلیم نہ ہو۔ اور نہ وہ انسان انسان ہے جس میں ہمدردی کا مادہ نہ ہو۔ ہمارے خدا نے کسی قوم سے فرق نہیں کیا ۔ مثلاً جو جو انسانی طاقتیں اور قوتیں آریہ ورت کی قدیم قوموں کو دی گئی ہیں ۔ وہی تمام قوتیں عربوں اور فارسیوں اور شامیوں اور چینیوں اور جاپانیوں اور یورپ اور امریکہ کی قوموں کو بھی عطا کی گئی ہیں سب کے لئے خدا کی زمین فرش کا کام دیتی ہے اور سب کے لئے اُس کا سورج اور چاند اور کئی اور ستارے روشن چراغ کا کام دے رہے ہیں ۲