چشمہٴ معرفت — Page 382
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۸۲ چشمه معرفت نے عظمت اور قبولیت اُن کی دنیا کے بعض حصوں میں پھیلا دی ہے وہ در حقیقت خدا کی طرف سے ہیں اور اُن کی آسمانی کتابوں میں گو دور دراز زمانہ کی وجہ سے کچھ تبدیل تغییر ہو گئی ہو یا اُن کے معنی خلاف حقیقت سمجھے گئے ہوں مگر دراصل وہ کتابیں منجانب اللہ اور عزت اور تعظیم کے لائق ہیں ۔ ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسرے ملکوں کے انبیاء کی نسبت سوال کیا گیا تو آپ نے یہی فرمایا کہ ہر ایک ملک میں خدا تعالیٰ کے نبی گزرے ہیں اور فرمایا کہ کانَ فِي الهِنْدِ نَبِيًّا اَسْوَدَ اللَّون اسْمُهُ كَاهِنًا یعنی ہند میں ایک نبی گذرا ہے جو سیاہ رنگ تھا اور نام اُس کا کاہن تھا یعنی کنھیا جس کو کرشن کہتے ہیں۔ اور آپ سے پوچھا گیا کہ کیا زبان پارسی میں بھی کبھی خدا نے کلام کیا ہے تو فرمایا کہ ہاں خدا کا کلام زبان پارسی میں بھی اُترا ہے جیسا کہ وہ اُس زبان میں فرماتا ہے مشت خاک را گر نه بخشم چه کنم۔ ۔ اور خدا نے قرآن شریف میں یہ بھی فرمایا ہے مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ یعنی جس لیں این قدر دنیا میں نبی گزرے ہیں بعض کا اُن میں سے ہم نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے اور بعض کا ذکر نہیں کیا ۔ اس قول سے مطلب یہ ہے کہ تا مسلمان حسن ظن سے کام ں اور دُنیا کے ہر ایک حصہ کے نبی کو جو گذر - حصہ کے نبی کو جو گزر چکے ہیں عزب ہیں عزت اور تعظیم سے دیکھیں اور بار بار قرآن شریف میں یہی ذکر کیا گیا ہے ۔ اس سے مقصود مسلمانوں کو یہ سبق دینا ہے کہ وہ دُنیا کے کسی حصہ کے ایسے نبی کی کسرشان نہ کریں جو ایک کثیر قوم نے اُس کو قبول کر لیا تھا۔ یہ اصول نہایت ہی پیارا اور دلکش اصول ہے اور مسلمان اس کے ساتھ جس قدر فخر کریں وہ بجا ہے کیونکہ دوسری قو میں بوجہ اس کے کہ اس اصول کی پابند نہیں دُنیا کے اور انبیاء کی نسبت جو گذر چکے ہیں جن کی قبولیت کروڑ ہا لوگوں میں پھیل چکی ہے ادنی ادنی اختلاف کی وجہ سے زبان درازی کے لئے المؤمن : ۷۹